بارسلونا میں ہنگاموں کے پیچھے سرگرم بلوکس (Blocus) نامی رجحان کو سمجھنے کے لیے سیاسی نظریے کا فقدان، قیادت اور تنظیمی ڈھانچے کی عدم موجودگی اہم عوامل قرار دیے جا رہے ہیں۔
بارسلونا میں حالیہ ہنگاموں، توڑ پھوڑ اور دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات کے بعد بلوکس نامی گروپ کی سرگرمیاں توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ اس رجحان کے پیچھے نہ کوئی واضح مشترکہ مقصد ہے، نہ متعین قیادت اور نہ ہی کوئی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ۔ ماہرین اور پولیس اس کے پھیلاؤ اور نوجوانوں کی شمولیت کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کاتالونیا کی پولیس موسوس د’اسکوادرا کے مطابق اب تک بلوکس کے پیروکاروں میں کسی مشترکہ سیاسی یا نظریاتی سوچ کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ ان کی سرگرمیوں کا تعلق نہ مزدوروں کے حقوق، نہ رہائش، نہ تعلیم اور نہ ہی صنفی مساوات کی کسی تحریک سے ثابت ہوا ہے۔ مختلف پیغامات اور پوسٹروں میں متضاد نظریات کی علامتیں بھی نظر آتی ہیں۔
اس گروپ کے پیچھے کوئی باقاعدہ مرکزی قیادت موجود دکھائی نہیں دیتی۔ بعض افراد سوشل میڈیا گروپس اور کمیونیکیشن چینلز بناتے ہیں اور معلومات پھیلانے میں کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ان کے درمیان کسی منظم رابطے یا مشترکہ قیادت کا ثبوت نہیں ملا۔
بلوکس کی سرگرمیاں زیادہ تر ٹک ٹاک، ٹیلی گرام اور واٹس ایپ کے ذریعے پھیلتی ہیں۔ پولیس دباؤ کے باعث بعض گروپس سگنل جیسے پلیٹ فارمز کی طرف بھی منتقل ہو رہے ہیں۔ حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا الگورتھمز، ویڈیو گیمز کے چیٹس اور مصنوعی ذہانت نے اس رجحان کو پھیلانے میں کیا کردار ادا کیا۔
تحقیقات کے مطابق اس رجحان میں زیادہ تر نوعمر لڑکے اور کم عمر نوجوان شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا ملازمت کرتے ہیں اور تاحال شناخت کیے گئے یا گرفتار کیے گئے افراد میں کسی کے خلاف انتہا پسندی یا سابقہ پرتشدد سرگرمیوں کا نمایاں ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے، دوستوں میں مقبول ہونے، کسی گروپ کا حصہ بننے اور FOMO یعنی کسی اہم سرگرمی سے محروم رہ جانے کے خوف نے بھی نوجوانوں کو متاثر کیا ہے۔
پولیس کے نزدیک سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی سرگرمیاں نوجوانوں کو عملی طور پر سڑکوں پر ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار تک کیسے لے جاتی ہیں۔
