موسمِ خزاں اور سردیوں کی آمد کے ساتھ نزلہ، زکام، ناک بند ہونے اور بلغم کی شکایات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بہت سے لوگ بلغم ختم کرنے والی ادویات (Mucolytics) استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں، تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف بلغم کی موجودگی ان ادویات کے استعمال کی وجہ نہیں بن سکتی۔ ان ادویات سے عام نزلہ زکام کا علاج ہونے یا بیماری کا دورانیہ کم ہونے کے شواہد بھی موجود نہیں ہیں۔
یورپی ادارے یورپا پریس کے مطابق اسپین کی سوسائٹی برائے پھیپھڑوں کے امراض (SEPAR) کی ماہرِ امراضِ تنفس جیسیکا گونزالیز اور فیملی ڈاکٹر ماریہ ڈیل مار مارٹینیز نے وضاحت کی ہے کہ ناک میں جمع ہونے والی رطوبت اور پھیپھڑوں کی نالیوں میں موجود بلغم دو مختلف مسائل ہیں، جن کے علاج کا طریقہ بھی مختلف ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عام نزلہ زکام یا شدید برونکائٹس میں بلغم پتلا کرنے والی ادویات کا معمول کے مطابق استعمال تجویز نہیں کیا جاتا۔ تاہم دائمی برونکائٹس اور پھیپھڑوں کی دائمی رکاوٹی بیماری (COPD) کے بعض مریضوں میں مخصوص ادویات مسلسل استعمال کرنے سے بیماری کی شدت بڑھنے کے واقعات میں معمولی کمی آ سکتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ عام زکام میں بلغم جسم کے قدرتی دفاعی نظام کا حصہ ہوتا ہے اور زیادہ تر افراد بغیر کسی مخصوص دوا کے خود ہی صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ اگر مسئلہ ناک بند ہونے یا ناک سے رطوبت آنے کا ہو تو نمکین پانی (سالین) سے ناک کی صفائی زیادہ مفید ہو سکتی ہے۔
بلغم پتلا کرنے والی ادویات اور کھانسی روکنے والی ادویات میں فرق
مکولائٹک ادویات بلغم کو پتلا کرتی ہیں تاکہ اسے آسانی سے خارج کیا جا سکے۔ ان میں ایسیٹائل سسٹین، کاربوسسٹین، ایمبروکسول اور بروم ہیکسین شامل ہیں۔ اس کے برعکس ایکسپیکٹورنٹ ادویات بلغم کے اخراج میں مدد دیتی ہیں، جبکہ کھانسی روکنے والی ادویات کھانسی کے قدرتی عمل کو کم کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سانس کی بیماری کے بعد کھانسی تین سے چار ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے، چاہے دیگر علامات ختم ہو چکی ہوں۔
ان ادویات کے استعمال سے متلی، اسہال، پیٹ میں درد اور بعض اوقات الرجی ہو سکتی ہے۔ دو سال سے کم عمر بچوں کو ایسی ادویات نہیں دینی چاہئیں، کیونکہ بلغم کی مقدار بڑھنے سے سانس کی نالیوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
معدے کے السر کے مریضوں اور دیگر ادویات استعمال کرنے والے افراد کو بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بلغم پتلا کرنے والی دوا کو کھانسی روکنے والی دوا کے ساتھ استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے بلغم خارج کرنے کا قدرتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں کے شکار افراد کو خود سے ادویات استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے۔
