اسپین کی اعلیٰ علاقائی عدالت نے خواتین ملازمین کو سر پر کوفیا (ہیئر نیٹ یا آرائشی ہیڈ بینڈ) پہننے پر مجبور کرنے والی ویلنشیا کی ایک کیٹرنگ کمپنی پر عائد 25 ہزار یورو جرمانے کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت کے مطابق یہ اقدام صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی نے یہ لباس صرف خواتین ملازمین کے لیے لازمی قرار دیا تھا، جس کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں تھی اور یہ پابندی محض ظاہری خوبصورتی اور کمپنی کی امیج برقرار رکھنے کے لیے لگائی گئی تھی۔
یہ معاملہ جنوری 2023 میں سامنے آیا، جب محکمہ انسپکشن آف لیبر نے کمپنی کے خلاف خلاف ورزی کا نوٹس جاری کیا۔ تحقیقات کے مطابق کمپنی نے جولائی 2022 میں لازمی یونیفارم کے علاوہ خواتین ملازمین کے لیے سر پر کوفیا یا ہیئر بینڈ پہننا ضروری قرار دیا تھا، جبکہ مرد ملازمین کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں تھی۔
ٹریڈ یونین UGT کی شکایت کے مطابق، اس فیصلے سے متاثر ہونے والی 18 خواتین ملازمین نے یہ اضافی لباس پہننے سے انکار کر دیا تھا، جس پر کمپنی نے انہیں 14 دن کے لیے ملازمت اور تنخواہ سے معطل کر دیا۔
بعد ازاں محکمہ محنت، فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ تحفظ نے کمپنی کی اس کارروائی کو صنفی امتیاز قرار دیتے ہوئے 25 ہزار یورو جرمانہ عائد کر دیا۔
کمپنی نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا، تاہم ویلنشیا کی سوشل کورٹ نمبر 13 نے گزشتہ سال مئی میں جرمانے کو درست قرار دیتے ہوئے کمپنی کی درخواست مسترد کر دی۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کمپنی نے تین خصوصی تقریبات کے دوران کوفیا پہننے سے انکار کرنے پر 18 خواتین کو سزا دی تھی، لیکن جب کمپنی کو محکمہ محنت کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس ملا تو اس نے اپنی کارروائی واپس لے لی اور ملازمین کی کمیٹی کو آگاہ کیا کہ فی الحال یہ لباس پہننے کی شرط ختم کی جا رہی ہے۔
کمپنی نے اس فیصلے کے خلاف ویلنشیا کی اعلیٰ عدالت (TSJCV) میں اپیل دائر کی، تاہم عدالت نے 22 ستمبر کو سنائے گئے فیصلے میں اپیل مسترد کر دی۔
عدالت کے ججوں نے واضح کیا کہ خواتین پر مخصوص لباس مسلط کرنا، جبکہ مرد ملازمین کے لیے اس جیسی کوئی شرط موجود نہ ہو اور اس کی کوئی معقول وجہ بھی نہ دی جا سکے، صنفی مساوات کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق:
“اس معاملے میں لباس پہننے کی پابندی صرف خواتین پر عائد کی گئی، مردوں کے لیے اس کے مساوی کوئی شرط موجود نہیں تھی اور نہ ہی اس اقدام کے پیچھے کوئی معروضی، جائز اور متناسب وجہ تھی۔”
عدالت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے اصولوں کے مطابق خواتین اور مردوں کے لیے مختلف یونیفارم مقرر کرنا، اگر اس کی کوئی معقول اور جائز وجہ نہ ہو، تو مساوات کے حق کی خلاف ورزی بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ کمپنی کے پاس اس فیصلے کے خلاف اسپین کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق موجود ہے۔
