باداخوز/ اسپین کے صوبے باداخوز میں بچوں کی مبینہ خرید و فروخت کے سنگین معاملے میں پولیس نے ایک خاتون سمیت 6 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار خاتون پر الزام ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جنم دینے کے بعد مبینہ طور پر فروخت کرتی تھی۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی بچوں کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث ایک مبینہ مجرمانہ نیٹ ورک کے خلاف کی گئی ہے۔
اسپین کی نیشنل پولیس اور سول گارڈ نے مشترکہ آپریشن کے دوران باداخوز، مونتیخو اور صوبہ خائن کے شہر لینارس میں بیک وقت کارروائیاں کیں۔ بدھ کی صبح پولیس کی بھاری نفری نے باداخوز کے علاقے لا لونیٹا میں چھاپہ مارا، جہاں متعدد سرکاری گاڑیاں اور سادہ لباس میں ملبوس اہلکار موجود تھے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے 6 مشتبہ افراد میں سے 3 کو باداخوز، 2 کو مونتیخو جبکہ ایک کو لینارس سے حراست میں لیا گیا۔ گرفتار خاتون اسپین کی شہری اور مونتیخو کی رہائشی بتائی جاتی ہے۔ نیشنل پولیس نے تصدیق کی ہے کہ زیرِ حراست خواتین میں سے ایک مبینہ طور پر بچوں کو جنم دینے کے بعد فروخت کرتی تھی۔ تاہم حکام نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ اب تک کتنے بچے اس نیٹ ورک کا شکار ہوئے۔
واقعے کی خبر سامنے آنے کے بعد مونتیخو کے شہریوں میں شدید حیرت اور تشویش پائی جاتی ہے۔ شہر کے میئر خاویر سیئن فیوگوس نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہری اس واقعے پر صدمے اور حیرت میں ہیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کا واقعہ علاقے کے لیے بالکل غیر معمولی ہے۔
پولیس نے کارروائی کے دوران مختلف گھروں اور گاڑیوں کی تلاشی بھی لی۔ باداخوز کی ایک رہائش گاہ سے ایک مشتبہ شخص کی ملکیت میں موجود شاٹ گن بھی برآمد کرکے قبضے میں لے لی گئی۔
ایکستریمادورا کی حکومتی نمائندہ ماریا تیریسا ماکیاس نے تصدیق کی ہے کہ آپریشن تاحال جاری ہے اور اب تک 6 گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ انہوں نے معاملے کی حساسیت اور عدالتی کارروائی کے پیش نظر عوام سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
پولیس کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔ تمام گرفتار افراد کے خلاف الزامات کی حتمی نوعیت کا تعین عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
