اسپین میں 2008ء میں پیدا ہونے والے نوجوانوں میں سے تقریباً ہر تین میں سے دو نے 2026ء کے یوتھ کلچرل بونس (Bono Cultural Joven) کے حصول کے لیے درخواست جمع کرائی ہے۔ وزارتِ ثقافت کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس پروگرام کے تحت 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے نوجوانوں کو ثقافتی سرگرمیوں، فنون اور تفریحی مواد پر خرچ کرنے کے لیے 400 یورو فراہم کیے جاتے ہیں۔
وزارتِ ثقافت کے مطابق 2026ء کی پانچویں اسکیم کے لیے مجموعی طور پر 374,000 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جو گزشتہ سال 2025ء کے مقابلے میں 2.2 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ تعداد ملک میں 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کی مجموعی آبادی کا تقریباً 66.6 فیصد بنتی ہے۔ تاہم وزارت کی جانب سے مقرر کردہ 477,000 درخواستوں کا ہدف حاصل نہیں ہوسکا۔ یہ پروگرام 2022ء میں شاہی فرمان کے ذریعے شروع کیا گیا تھا اور ہر سال اس میں نوجوانوں کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
وزیرِ ثقافت ارنیسٹ اورتاسون کے مطابق اس پروگرام کا ایک اہم مقصد معاشی اور سماجی طور پر کمزور خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں تک بھی اس سہولت کو پہنچانا ہے۔ تاہم دستیاب اعدادوشمار کے مطابق اس حوالے سے اب بھی مشکلات موجود ہیں۔
ٹیکس ایجنسی کے 2022ء کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ سالانہ 83 ہزار یورو سے زیادہ آمدنی رکھنے والے گھرانوں کے نوجوانوں نے سب سے زیادہ اس بونس سے فائدہ اٹھایا، جہاں درخواستوں کی شرح 68.9 فیصد رہی۔ اس کے برعکس سالانہ 9,300 یورو آمدنی والے کم وسائل کے حامل گھرانوں کے صرف 30 فیصد نوجوان اس سہولت سے مستفید ہوئے۔
اسی فرق کو کم کرنے کے لیے وزارتِ ثقافت نے سماجی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھانے سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں۔
اس سال بونس کے استعمال کے دائرے کو بھی وسیع کیا گیا ہے۔ نوجوان 400 یورو کو مختلف شعبوں میں خرچ کرسکتے ہیں۔ ان میں لائیو شوز، سنیما اور دیگر آڈیو ویژول سرگرمیوں، ثقافتی ورثے اور موسیقی کے آلات و فنکارانہ سامان کے لیے 200 یورو، کتابوں اور ویڈیو گیمز سمیت طباعت شدہ ثقافتی مصنوعات کے لیے 100 یورو جبکہ ڈیجیٹل مواد کے لیے مزید 100 یورو مختص ہیں۔
اس کے علاوہ نوجوان چاہیں تو اپنی پوری 400 یورو کی رقم کسی ایک مخصوص شعبے، مثلاً ثقافتی کورسز، ورکشاپس، موسیقی کے آلات یا فنکارانہ سامان پر بھی خرچ کرسکتے ہیں۔
