بارسلونا: کاتالونیا کی پولیس موسوس دے اسکوادرا نے پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے اسپین لانے اور جعلی دستاویزات کے ذریعے رہائشی و ورک پرمٹ دلوانے والے ایک بڑے جرائم پیشہ نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے 50 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں 7 مبینہ طور پر تنظیم کے ارکان جبکہ 43 ایسے کاروباری افراد شامل ہیں جنہوں نے اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں سے مبینہ طور پر فائدہ اٹھایا۔
پولیس آپریشن کے دوران 48 مرد اور دو خواتین کو حراست میں لیا گیا۔ کارروائی میں 81 پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔ گرفتاریاں 26 اور 27 اکتوبر کو زیادہ تر بارسلونا اور اس کے نواحی علاقوں میں کی گئیں۔ ملزمان پر جرائم پیشہ گروہ سے تعلق، غیر ملکی شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور دستاویزات میں جعل سازی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ گرفتار افراد میں سے تین پہلے ہی جیل بھیجے جا چکے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق یہ گروہ گزشتہ سات برس سے سرگرم تھا اور اس کا مضبوط نیٹ ورک کاتالونیا اور پاکستان تک پھیلا ہوا تھا۔ تنظیم ایسے پاکستانی شہریوں سے رابطہ کرتی تھی جو اسپین میں رہائش اور کام کرنے کا قانونی اجازت نامہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے کاروباری اداروں کے ذریعے جعلی ملازمت کے معاہدے تیار کیے جاتے اور بھاری رقوم وصول کی جاتی تھیں۔
پولیس کے مطابق مارچ 2022 سے جولائی 2023 کے دوران تنظیم نے ملازمت کے 224 درخواست گزاروں کے کیسز تیار کیے، جن میں سے صرف 108 منظور ہوئے۔ اس کے باوجود تنظیم نے تقریباً 32 لاکھ یورو وصول کیے۔ اس رقم میں مسترد یا زیرالتوا درخواستوں اور پہلے سے اسپین میں موجود افراد کے کیسز کی آمدنی شامل نہیں۔
بیرون ملک سے آنے والوں کو ویزے اور اجازت نامے دلوانے کے لیے بعض اوقات 30 ہزار یورو تک وصول کیے جاتے تھے، جبکہ اسپین میں موجود افراد سے جعلی ملازمت کے معاہدوں کے لیے 8 ہزار یورو تک لیے جاتے تھے۔
پولیس کے مطابق بعض افراد کو ملازمت کے نام پر استحصال اور انتہائی خراب حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ بعض معاملات میں کوئی حقیقی ملازمت موجود ہی نہیں تھی۔
تحقیقات فروری 2024 میں شروع ہوئی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش ابھی جاری ہے اور مزید گرفتاریاں بھی خارج از امکان نہیں۔
