بارسلونا: اسپین کی قومی پولیس نے بارسلونا میں دہشت گرد تنظیم داعش (DAESH) کے ایک حامی کو دوبارہ جہادی پروپیگنڈا پھیلانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے شدت پسندی کی تشہیر کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم اس سے قبل بھی انہی الزامات کے تحت سزا یافتہ تھا، تاہم مبینہ طور پر عدالتی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔
قومی پولیس کے مطابق ملزم کو گزشتہ منگل کے روز بارسلونا میں واقع اس کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔ عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد اسپین کی قومی عدالت (Audiencia Nacional) نے اسے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
تحقیقات کے مطابق گرفتار شخص داعش کا ہمدرد تھا اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد اکاؤنٹس چلا رہا تھا، جن کے ذریعے وہ انتہا پسندانہ اور جہادی نوعیت کا مواد پھیلاتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایسے دیگر صارفین سے بھی مسلسل رابطے میں تھا جو کھلے عام جہادی نظریات اور انتہا پسندانہ بیانات شائع کرتے تھے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ملزم کو دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہو۔ اسے 2018 میں بھی جہادی شدت پسندی کی تشہیر اور نظریاتی طور پر لوگوں کو انتہا پسندی کی جانب راغب کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد قومی عدالت نے اسے سزا سنائی تھی۔
2021 میں اسے نگرانی کی شرائط کے ساتھ رہا کر دیا گیا تھا۔ عدالتی احکامات کے تحت اسے الیکٹرانک آلات کے ذریعے مسلسل قابلِ رسائی رہنا اور ہر پندرہ روز بعد پولیس کے سامنے حاضری دینا لازمی تھا۔
اس کے علاوہ اسے ایسے آن لائن فورمز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی سے بھی روک دیا گیا تھا جہاں جہادی شدت پسندی کو فروغ دیا جاتا ہو۔
پولیس کو ملزم کی جانب سے دوبارہ مبینہ طور پر شدت پسندانہ سرگرمیاں شروع کرنے اور عدالتی پابندیوں کی خلاف ورزی کے شواہد ملے، جس کے بعد قومی پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے اس کی آن لائن سرگرمیوں کی دوبارہ تحقیقات شروع کر دیں۔
کارروائی کے دوران پولیس اہلکاروں نے بارسلونا میں ملزم کے گھر کی تلاشی لی اور متعدد کمپیوٹرز سمیت الیکٹرانک آلات قبضے میں لے لیے۔
پولیس حکام کے مطابق ضبط کیے گئے آلات کا تکنیکی تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ سوشل میڈیا پر ملزم کی سرگرمیوں اور اس کے مبینہ روابط کے دائرہ کار کا تعین کیا جا سکے۔
