ماہرین کے مطابق شاک ویو تھراپی اور بے ہوشی کی حالت میں کندھے کو حرکت دینے کے طریقے سے فوری ریلیف مل سکتا ہے، تاہم طویل مدتی فوائد کے شواہد ابھی ناکافی ہیں۔
منجمد کندھا (Frozen Shoulder) ایک ایسی تکلیف دہ بیماری ہے جو متاثرہ افراد کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ اس بیماری میں کندھے میں تیز درد، خصوصاً رات کے وقت، بڑھ جاتا ہے جبکہ بازو اوپر اٹھانے، کمر کے پیچھے لے جانے، بال دھونے، کپڑے پہننے اور دیگر معمول کے کام انجام دینے میں دشواری پیش آتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کو کیپسولائٹس ایڈہیسیوا (Adhesive Capsulitis) کہا جاتا ہے۔ یہ مردوں کو بھی متاثر کرتی ہے، تاہم 40 سے 60 سال کی خواتین میں اس کے زیادہ عام ہونے کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ بیماری کے زیادہ تر مریض بالآخر صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن مکمل بحالی میں ایک سے تین سال تک لگ سکتے ہیں۔
یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کندھے کے جوڑ کو گھیرنے والی جھلی موٹی، سخت اور سوزش کا شکار ہو جاتی ہے، جس سے جوڑ کی حرکت محدود ہو جاتی ہے۔
اس بیماری کے علاج سے متعلق ایک بڑی بین الاقوامی تحقیق طبی جریدے The BMJ میں شائع ہوئی ہے۔ محققین نے 189 کلینیکل ٹرائلز کا جائزہ لیا، جن میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد شامل تھے اور علاج کے 59 مختلف طریقوں کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق سابقہ مطالعات میں سے 71 فیصد سے زائد میں طریقہ کار یا نتائج کے حوالے سے خامیاں موجود تھیں، جس کے باعث بیشتر علاج کے مؤثر ہونے کے شواہد کمزور قرار دیے گئے۔
تاہم تحقیق میں دو طریقوں کو مختصر مدت کے لیے نسبتاً مؤثر قرار دیا گیا ہے۔
پہلا طریقہ شاک ویو تھراپی ہے، جس میں صوتی لہروں کے ذریعے متاثرہ حصے میں درد کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دوسرا طریقہ بے ہوشی کی حالت میں کندھے کے جوڑ کو حرکت دینا ہے، جس کا مقصد سخت جھلی کی جکڑن کو کم کرکے بازو کی حرکت بہتر بنانا ہے۔ اس طریقے کے ساتھ بعض اوقات کورٹیکوسٹیرائڈ انجیکشن بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
محققین نے واضح کیا ہے کہ ان طریقوں کے فوائد کے شواہد بنیادی طور پر تین ماہ تک محدود ہیں۔ چھ ماہ یا اس سے زیادہ عرصے کے بعد ان کے اثرات کے بارے میں ابھی حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
