نصف ہسپانوی شہری مہنگائی کا ذمہ دار تارکینِ وطن کو سمجھنے لگے،رپورٹ
Screenshot
آئیپسوس کی تازہ رپورٹ “کاستے دے لا ویدا 2025” کے مطابق ہر دو میں سے ایک ہسپانوی شہری اب مہنگی ہوتی زندگی کا تعلق براہِ راست تارکینِ وطن سے جوڑ رہا ہے۔ اگرچہ افراطِ زر اب عوامی بحث کا مرکزی موضوع نہیں رہا، لیکن شہریوں کی تشویش میں اس کا اثر بدستور موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق 76 فیصد لوگ عالمی معاشی حالات کو قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیتے ہیں، جبکہ 49 فیصد اب اس سلسلے میں ہجرت کو بھی ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
سیاسی اور نسلی جھکاؤ نمایاں
مہنگائی اور ہجرت کو باہم جوڑنے کا تصور خاص طور پر دائیں بازو کے ووٹرز میں مضبوط ہے۔ ووکس کے 77 فیصد اور پی پی کے 61 فیصد ووٹرز اس نظریے کے حامی ہیں، جبکہ سوشلسٹ پارٹی کے ووٹرز میں یہ شرح 43 فیصد اور سُمار کے حامیوں میں صرف 20 فیصد ہے۔ یہ رائے نسبتاً زیادہ مردوں، نوجوانوں اور بنیادی تعلیم رکھنے والے افراد میں پائی گئی۔
یورپی ممالک کے مقابلے میں اسپین اب بھی اُن ملکوں میں شامل ہے جہاں اس ربط پر یقین رکھنے والوں کی شرح کم ہے۔ بیلجیم (56 فیصد) سرفہرست ہے، اس کے بعد نیدرلینڈز (54 فیصد)، جرمنی (53 فیصد) اور فرانس (51 فیصد) ہیں۔ اسپین اور اٹلی 49 فیصد پر ایک ہی سطح پر ہیں، جبکہ سویڈن 48 فیصد اور ہنگری 30 فیصد کے ساتھ سب سے کم دکھائی دیتا ہے۔
معاشی بدحالی کی تصویر
رپورٹ ایک گہرا معاشی بداعتمادی کا نقشہ بھی پیش کرتی ہے۔ 53 فیصد اسپینی شہری اپنی مالی حالت سے ناخوش ہیں۔ صرف 9 فیصد خود کو مالی طور پر مطمئن کہتے ہیں۔ 36 فیصد اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے تک محدود ہیں جبکہ 23 فیصد کے لیے مہینے کے آخر تک پہنچنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔
نسلوں کے درمیان مالی فرق بھی بڑھ رہا ہے۔ ’بیبی بومرز‘ میں تقریباً نصف افراد اپنے حالات کو بہتر سمجھتے ہیں، جبکہ جنریشن زیڈ کے 27 فیصد نوجوان اپنی مالی معاملات کو سنبھالنے میں شدید مشکلات کا اعتراف کرتے ہیں۔
آئندہ مہینوں میں قیمتوں میں اضافے کا اندیشہ
سات میں سے دس اسپینی شہری (69 فیصد) آئندہ سال میں مزید مہنگائی کی توقع کر رہے ہیں۔ اتنے ہی لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی گھریلو خریداری کی ٹوکری مزید مہنگی ہوگی۔
آنے والے چھ ماہ میں 69 فیصد روزمرہ خریداری میں اضافہ، 65 فیصد گھریلو مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے، اور 63 فیصد بجلی، گیس اور پانی جیسے بنیادی اخراجات میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ 57 فیصد کو ایندھن کے بڑھتے خرچ کی فکر ہے جبکہ 33 فیصد لوگوں کو اپنی رہائشی لاگت، یعنی کرائے یا رہن میں اضافے کا اندیشہ ہے۔