سخت ویزا پالیسیوں کے بعد برطانیہ کی مجموعی ہجرت میں دو تہائی کمی واقع
Screenshot
برطانیہ میں طویل مدتی خالص اور مجموعی ہجرت اس سال جون تک کم ہو کر 204,000 تک رہ گئی جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی کم ہے، یہ بات جمعرات کو سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوئی۔ یوں سخت حکومتی پالیسیوں کے باعث یہ زوال پذیر رجحان پھیلا ہے۔
قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح کی ہجرت دس سال سے زیادہ عرصے سے برطانیہ میں سیاسی بیانیے اور طرزِ حکمرانی پر حاوی رہی ہے اور یکے بعد دیگرے حکومتوں نے سخت ویزا قوانین اور بہتر تنخواہ کی حد مقرر کر کے مہاجرت کو روکنے کی کوششیں کی ہیں۔
نائجل فاراج کی عوامیت پسند پارٹی ریفارم یو کے ہجرف مخالف پلیٹ فارم پر مہم چلاتی ہے اور اسے رائے عامہ کے جائزوں میں دس یا زیادہ پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے لیبر حکومت پالیسیوں کو مزید سخت کر رہی ہے۔
گذشتہ ہفتے دفتر برائے قومی شماریات کے نظرِ ثانی شدہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ مجموعی ہجرت مارچ 2023 تک کے ایک سال کے اعداد و شمار 944,000 کی نسبت جلدی اور زیادہ بلندی پر پہنچ گئی تھی۔
گذشتہ ہفتے کے نظرِ ثانی شدہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 میں تعداد 345,000 تک گر گئی تھی۔
مہاجرت میں کمی کے باوجود عوام الناس بدستور اسے ملک کا اہم مسئلہ سمجھتے ہیں اور تھنک ٹینک برٹش فیوچر نے مشاہدہ کیا کہ عوامی تشویش کا بنیادی محرک وہ لوگ ہیں جو فرانس سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے پناہ حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔
اس نے کہا، "کم امیگریشن کے سب سے زیادہ خواہش مند افراد کو گرتی ہوئی تعداد کے بارے میں کم ترین واقفیت ہے اور انہی کے بارے میں سب سے زیادہ امکان ہے کہ وہ غلطی سے یقین کر لیں کہ مجموعی ہجرت میں اضافہ ہوا ہے۔”
اس ماہ حکومت نے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا اعلان کیا بشمول پناہ گزینوں کی حیثیت کو عارضی بنانا، غیر قانونی طور پر آنے والوں کی ملک بدری میں تیزی لانا اور بعض غیر ملکی کارکنان کے مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے اہلیت کی مدت دگنا کرکے دس سال کر دینا۔
حالیہ برسوں میں کام کے لیے ہجرت کا واحد سب سے بڑا محرک نگہداشت سے متعلق شعبہ رہا ہے جسے ختم کرنے والی پالیسی جولائی میں نافذ العمل ہوئی اور آئندہ سالوں میں اس سے تعداد میں مزید کمی کی توقع ہے