کروسان کھانے کے بعد جسم میں کیا ہوتا ہے؟ جانیں دلچسپ اثرات
Screenshot
کروسان خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھاتا اور اسے ٹھنڈا کرنے سے اس کے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے
صرف ایک کروسان کا ٹکڑا کھانے سے خون میں شوگر کی سطح آسانی سے بڑھ سکتی ہے۔ ویری ویل ہیلتھ (Very Well Health) کے مطابق بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کروسان کو ٹھنڈا کرنے سے مزاحم نشاستہ (resistant starch) بڑھتا ہے اور یہ خون میں شوگر کی بڑھوتری کو کم کر سکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ فرق معمولی ہے۔
کروسان ایک مزیدار پیسٹری ہے، جو آٹے، دودھ، پانی، چینی، نمک اور مکھن سے بنتی ہے۔ دیگر بہت سی پیسٹریز کی طرح کروسان عام طور پر کاربوہائیڈریٹس اور چربی سے بھرپور ہوتا ہے، جبکہ دیگر بنیادی غذائی اجزاء کم ہوتے ہیں۔
کروسان کے اجزاء
امریکی وزارت زراعت کے مطابق ایک درمیانے سائز کے کروسان (57 گرام وزن) میں درج ذیل غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں:
کیلوریز: 231
پروٹین: 4اعشاریہ7
گرام چکنائی: 12 گرام
کاربوہائیڈریٹس: 26اعشاریہ1 گرام
فائبر: 1اعشاریہ5 گرام
شوگر: 6اعشاریہ4 گرام
کروسان ایک ہائی گلیسمک انڈیکس (GI) خوراک ہے، یعنی اس میں موجود کاربوہائیڈریٹس خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتے ہیں۔
کروسان کو ٹھنڈا کرنا
بعض افراد کا خیال ہے کہ خون میں شوگر کی سطح کو کم کرنے کے لیے کروسان کھانے سے پہلے اسے ٹھنڈا کرنا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔ فلوریڈا کی "سازرن یونیورسٹی” کے اسسٹنٹ پروفیسر اور غذائیت کے ماہر پروفیسر ہیوون گرے کے مطابق:جب روٹی یا پیسٹریز جیسے کروسان کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے، تو نشاستے کے جلیٹینائزڈ مالیکیولز(Gelatinized molecules)خاص طور پر ایملوز(Amylose) دوبارہ منسلک اور کرسٹلائز ہو کر ایک زیادہ منظم ساخت بناتے ہیں۔
غذائیت کے ماہرین اس قسم کے نشاستے کو "مزاحم نشاستہ” (Resistant Starch) کہتے ہیں، یعنی یہ ہضم کے خلاف مزاحم ہوتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح نہیں بڑھاتا بلکہ آنتوں میں فائدہ مند بیکٹیریا کے لیے ایندھن کا کام کرتا ہے۔
مطالعےسے پتہ چلتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور کچھ خوراکیں، جیسے چاول، کو ٹھنڈا کرنے سے مزاحم نشاستہ کی مقدار میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم کروسان کے معاملے میں تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ٹھنڈا کرنے کے وہی فوائد حاصل نہیں ہوتے۔
پروفیسر گرے نے مزید کہا :کہ کروسان میں مجموعی طور پر دستیاب نشاستہ محدود ہوتا ہے، لہٰذا اس سے حاصل ہونے والا فرق معمولی رہتا ہے۔
کروسان میں مکھن
کروسان میں موجود چربی،جو اس صورت میں مکھن ہے،وہ بھی خون میں شوگر کی سطح بڑھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔پروفیسر گرے کے مطابق:جب ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس چربی یا فائبر سے بھرپور مرکب کھانوں کا حصہ ہوں، تو خون میں شوگر کی سطح میں اضافہ کم ہو سکتا ہے۔تاہم کروسان اس قاعدے سے مستثنیٰ ہو سکتا ہے۔
گرے کے مطابق کروسان کا گلیسمک انڈیکس اب بھی زیادہ ہے، یعنی اس میں موجود مکھن خون میں شوگر کی سطح کو خاص طور پر بہتر نہیں کرتا۔ بہتر ہے کہ شوگر کے توازن کے لیے ایسی متوازن غذا کھائی جائے جس میں ہر چیز تھوڑی مقدار میں موجود ہو۔
اسی حوالے سے امانڈا سوسیدا، غذائیت کی ماہر اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی لیکچرر نے کہا:اگر کروسان کے ساتھ کچھ پروٹین جیسے پنیر یا انڈا، کھایا جائے تو یہ خون میں شوگر کی سطح پر بہتر اثر ڈال سکتا ہے۔
خون میں شوگر کرنے کے لیے
سوسیدا نے کہا:اگر کوئی شخص خون میں شوگر کی سطح کا خاص طور پر خیال رکھ رہا ہو، تو سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ کروسان کی مقدار کم کر دی جائے۔
انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ کم مقدار میں کروسان کھایا جائے تاکہ ذائقہ کا لطف بھی لیا جا سکے اور خون میں شوگر کی سطح متاثر نہ ہو۔
پروفیسر گرے نے بتایا کہ مکمل اناج، میوہ جات یا اضافی پروٹین والے کھانے بھی خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے بہترین متبادل ہیں۔
گری نے مزید کہا:مکمل اناج کی ٹوسٹ کے ساتھ مونگ پھلی کا مکھن یا عام یونانی دہی کے ساتھ پھل یا بیج اور بیریز کے ساتھ اوٹ میل—یہ سب آسان اور بہتر ناشتہ کے اختیارات ہیں