وزیراعظم پیدرو سانچیز کا مالٹا میں انٹرنیشنل سوشلسٹ کونسل کے اجلاس سے خطاب،دائیں بازو کی جماعتوں پر کڑی تنقید

Screenshot

Screenshot

وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ دائیں بازو کی جماعتیں ایک مسلسل ’بلیک فرائیڈے‘ میں جی رہی ہیں، جہاں وہ جمہوریت اور خواتین کے حقوق کو ’’فروخت‘‘ کے لیے پیش کر رہی ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے عوامی خدمات پر ’’رعایتیں‘‘ دینے کا سوچ رہی ہیں۔

سانچیز نے یہ بات مالٹا میں انٹرنیشنل سوشلسٹ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے ملکی سیاست پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن یہ ضرور متنبہ کیا کہ روایتی دائیں بازو کی جماعتیں انتہا پسند دائیں بازو کے نظریات میں کھو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اپنے بنیادی سیاسی اصول اور ووٹر کھو دیں گی۔

وزیراعظم کے مطابق ماضی میں بائیں اور دائیں بازو کی جماعتوں میں اختلافات ضرور ہوتے تھے، لیکن جمہوریت، آزادی، انسانی حقوق، سائنس اور سچائی کی حفاظت جیسے بنیادی نکات پر سب متفق تھے۔ ان کے بقول اب وہ ’’مشترکہ بنیاد‘‘ ختم ہو چکی ہے۔

سانچیز نے کہا کہ روایتی دائیں بازو نے یہ سمجھا تھا کہ وہ انتہا پسند دائیں بازو کو قابو میں رکھ لے گا، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ انہوں نے نہ صرف ان نظریات کو عام کیا بلکہ انہیں حکومتوں تک لے آئے اور ان کی حکمت عملی بھی اپنا لی۔

وزیراعظم نے دائیں بازو کی جماعتوں کی ’’تضادات‘‘ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو محب وطن کہتے ہیں لیکن بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔ ’’وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عوام کے لیے حکومت کرتے ہیں، لیکن قانون سازی ایلیٹس کے لیے کرتے ہیں۔ یہ کھلا تضاد ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں سوشل ڈیموکریٹک حکومتیں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتیں۔ انہیں موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، صنفی مساوات اور عالمی امن جیسے بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا ہے۔

انہوں نے نیویارک کے نومنتخب میئر زوہران ممدانی کی کامیابی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے توقعات بڑھا کر عوام کا اعتماد حاصل کیا۔

عالمی صورت حال پر بات کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ موجودہ دور میں جنگی تنازعات دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ بڑھ چکے ہیں، خصوصاً یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں۔ ساتھ ہی انہوں نے سائبر حملوں، ہائبرڈ خطرات اور مصنوعی ذہانت کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خدشات کا ذکر کیا۔

انہوں نے اسرائیل فلسطین تنازعے کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت دہرائی، جبکہ یوکرین کے لیے منصفانہ اور پائیدار امن کی اپیل کی، جس میں اس کی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کا احترام شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو ’’جنگ نہیں، امن‘‘ کا پیغام دینا چاہیے۔

خطاب کے آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ مشکل وقت کے باوجود بائیں بازو ہمیشہ عزت، برابری اور انصاف کی سمت دکھانے والی ’’راہنما قوت‘‘ رہے گا۔ انہوں نے ترکی کی جماعت CHP اور چلی کے سوشلسٹوں کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا، جن کے ملکوں میں اہم سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے