اسپین میں خود روزگار پیشہ افراد کے بہتر حقوق کے لیے ملک گیر احتجاج
Screenshot
بارسلونا / 30 نومبر 2025(دوست مانیٹرنگ ڈیسک)اسپین کے مختلف شہروں میں خود روزگار پیشہ (Los autónomos)افراد نے اپنے حقوق کے لیے ملک گیر احتجاج کیا۔ ’’پلیٹ فارم فار دی دگنتی آف آتونوموس‘‘ کی جانب سے منعقدہ یہ مظاہرے اتوار کے روز 21 شہروں میں ہوئے، جن میں بارسلونا، بلباو، میڈرڈ، مالاگا، سینتاندر، سانتیاگو دی کومپوستیلا، سیویل، تاراگونا اور ویلنسیا شامل ہیں۔
تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ 85 ہزار یورو تک کی آمدنی پر وی اے ٹی سے استثنا دیا جائے اور خود روزگار پیشہ افراد کو ’’ریاست کے محصل‘‘ (ٹیکس جمع کرانے والے) کا کردار ادا کرنے سے نجات دی جائے۔

ویلنسیا میں قومی سطح کی کوآرڈینیٹر جیسی کا گیریدو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ خود روزگار لوگ وہ تمام بنیادی حقوق چاہتے ہیں جو کسی بھی ملازم کو حاصل ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم باقاعدہ ادائیگیاں کرتے ہیں، لیکن بیماری کی چھٹی، زچگی کی چھٹی، ہڑتال کے حق جیسے سہولتوں سے محروم ہیں۔ میں ملازم نہیں ہوں، پھر بھی چوبیس گھنٹے کام کرتی ہوں۔‘‘
تنظیم نے مطالبات کی فہرست میں ماہانہ حقیقی آمدنی کے مطابق ’’متناسب‘‘ فیسوں کا نظام، بے روزگاری (“پاروآتونومو”) اسکیم کی مکمل اصلاح، طبی یا خاندانی ایمرجنسی کی صورت میں کم شرح پر متبادل ورکرز کی سہولت، سوگ کا حق اور ملازمین جیسی سماجی تحفظ کی مکمل فراہمی شامل کی ہے۔
دیگر مطالبات میں سرکاری کاغذی کارروائی کو آسان بنانا، پیچیدہ قانونی زبان کا خاتمہ، ذاتی اور گھریلو اثاثوں کا تحفظ، نقد ادائیگیوں کی آزادی، ادائیگی کے نظام میں منصفانہ مقابلہ، ایس جی اے ای کی فیسوں کا جائزہ، بغیر کاپی رائٹ موسیقی استعمال کرنے کی آزادی اور سرمایہ کاری پر فوری ٹیکس کٹوتی شامل ہیں۔

پلیٹ فارم نے خود کو ایک آزاد شہری تنظیم قرار دیا ہے جس کا کوئی سیاسی تعلق یا مالی مفاد نہیں۔ تنظیم کے مطابق خود روزگار افراد ’’ناقابل برداشت‘‘ حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ’’غیر معمولی حد تک بلند فیسیں، بھاری ٹیکس اور صفر سماجی تحفظ‘‘ شامل ہیں۔
ویلنسیا میں ہونے والے مارچ میں شرکا نے ’’باوقار کام‘‘ اور بنیادی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ ’’اگر خود روزگار لوگ نہیں ہوں گے تو نہ ملک چلے گا اور نہ ہی معیشت مضبوط ہوگی۔‘‘ شرکا نے اپنے مرکزی بینر پر خود کو ’’دم گھٹتا ہوا‘‘ طبقہ قرار دیا اور نعرے لگائے: ’’ہاتھ اوپر، یہ ڈکیتی ہے‘‘ اور ’’کچھ لوگ لوٹتے ہیں، کچھ لوگ محنت کرتے ہیں‘‘۔