بارسلونا میں ’پنچا رودا‘ طریقے سے سیاحوں کو لوٹنے والے تین افراد گرفتار

Screenshot

Screenshot

بارسلونا میں سیاحوں کو نشانہ بنانے والا بدنام طریقہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔ ’پنچا رودا‘ کے نام سے معروف اس طریقے میں واردات کرنے والے ملزمان کار کا ٹائر پنکچر کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی گاڑی سے قیمتی سامان چُرا لیتے ہیں۔ موسوس دی اسکوادرا نے تین افراد کو حراست میں لیا ہے جن پر 40 ہزار یورو سے زیادہ کی چوری کا الزام ہے۔

پولیس کے مطابق یہ گروہ زیادہ تر ایشیائی سیاحوں کو نشانہ بناتا تھا۔ تفتیش میں اب تک دس وارداتوں کا پتہ چلا ہے جن میں نقصانات اور چوری دونوں شامل ہیں۔ یہ سلسلہ 9 اگست سے شروع ہوا اور آخری واردات 25 ستمبر کو ہوئی۔ اگلے ہی روز پولیس نے کارروائی کر کے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

یہ واقعات ضلع سيوتات ویّا اور سانتس مونتژوک میں پیش آئے۔ ملزمان دو موٹر سائیکلوں پر شہر کے مصروف علاقوں میں گھوم کر شکار تلاش کرتے تھے۔ ان کی عمریں 43 سے 49 سال کے درمیان ہیں اور مجموعی طور پر ان کے خلاف 104 سابقہ مقدمات درج ہیں، جس سے ان کی عادتاً جرائم پیشہ سرگرمیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ انہیں 27 نومبر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان 40 ہزار یورو سے زائد مالیت کا سامان لے اڑے، جن میں الیکٹرانک ڈیوائسز، بیگ، کریڈٹ کارڈز اور دیگر قیمتی اشیا شامل تھیں۔

واردات کا طریقہ کار ہمیشہ ایک جیسا ہوتا تھا۔ پہلے نشانہ بنائی گئی گاڑی کا ٹائر سرخ بتی پر رکے ہوئے پنکچر کیا جاتا۔ جب ڈرائیور کچھ دیر بعد ٹائر پنکچر ہونے کا احساس کرتا اور گاڑی سے اتر کر دیکھنے لگتا، تو ملزم ہمدردی کا ڈرامہ کر کے اس کی توجہ ہٹا دیتا۔ اسی دوران ساتھی تیزی سے گاڑی کے اندر جھک کر قیمتی سامان نکال لیتا۔ چند ہی لمحوں میں وہ موٹر سائیکل پر فرار ہو جاتے، اکثر خطرناک انداز میں گاڑیوں کے بیچ سے نکلتے ہوئے۔

موسوس دی اسکوادرا کے مطابق یہ گروہ منظم طریقے سے کام کرتا تھا اور فرار کے دوران ٹریفک کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالتا تھا۔ پولیس نے شہریوں اور سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے