Screenshot
بارسلونا(محمد احمد)اسپین ایمبیسی اسلام آباد کی اپوائنٹمنٹس کی مبینہ خرید و فروخت کا مسئلہ کچھ عرصے سے ہزاروں پاکستانیوں کے لیے ایک اذیت بنا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایجنٹ مافیا کی جانب سے اپوائنٹمنٹ کے نام پر لوگوں سے کھلے عام 10 سے 15 لاکھ روپے تک کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
کوئی اس کو پاکستانی حکومت کی ناکامی سمجھتا ہے کہ پیسے مانگنے والے ایجنٹ سب پاکستانی ہیں اور انہوں نے یہ سسٹم ہائی جیک کیا ہوا ہے۔ لہذا حکومت پاکستان کو چاہیئے ایسے لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے۔
جبکہ کچھ کے نزدیک یہ اسپین ایمبیسی کے اپوائنٹمنٹ سسٹم کا سقم ہے جو ان مسائل کو جنم دے رہا ہے لیکن وہ اس کی روک تھام کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کر رہے۔
اصل قصوروار کوئی بھی ہو لیکن بھگت ایک عام پاکستانی رہا ہے۔
اسپین میں لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پاکستانی بستے ہیں جو سالانہ آٹھ سو اکتیس ملین ڈالر کا ذر مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ایمبیسی میں محض اپنی فیملی کے کاغذات جمع کروانے کیلئے ان سے لاکھوں طلب کئے جا رہے ہیں۔
اپوائنٹمنٹ نہ ملنے یا تاخیر سے ملنے سے پیدا ہونے والے مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جو لوگ اس مرحلے سے گزرے ہیں یا گزر رہے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں۔
اس سنگین مسئلے کو متعلقہ اداروں اور حکومتی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے گزشتہ شام بارسلونا میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی میزبانی راجہ مظہر حسین اور سابق سفیر پاکستان سید ایاز حسین شاہ صاحب نے کی۔
اجلاس میں کمیونٹی نمائندوں، مختلف تنظیموں کے عہدیداران اور سنجیدہ افراد نے شرکت کی، مسئلے کی سنگینی، ممکنہ حل اور آئندہ کے مشترکہ لائحۂ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور اس مسئلے پر متحد ہو کر ہر سطح پر آواز بلند کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
