کاتالونیا کی کرسمس روایات میں پوپ کیوں شامل ہے؟

Screenshot

Screenshot

کاتالونیا میں کرسمس کی روایات دنیا بھر سے خاصی مختلف اور بظاہر عجیب دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں کرسمس کے موقع پر ایسے مجسمے اور رسومات ملتی ہیں جن کا تعلق انسانی فضلے سے جوڑا جاتا ہے۔ کہیں نِکر اتارے بیٹھا ہوا ایک مجسمہ ہے اور کہیں ایک لکڑی کا لٹھا ہے جو بچوں کو تحفے “نکالتا” ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں؟

آج کے عالمگیر اور جڑے ہوئے دور میں کرسمس تقریباً ہر جگہ ایک جیسی نظر آتی ہے۔ سانتا کلاز، برف، کرسمس ٹری، تحفے اور سجاوٹ۔ مگر ہر خطہ اپنی کچھ قدیم اور منفرد روایات بھی سنبھالے ہوئے ہے، جن میں سے کئی مسیح کی پیدائش سے بھی پہلے کی ہیں۔ کاتالونیا بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

جہاں کاتالونیا کی کرسمس روایات سب سے زیادہ چونکاتی ہیں، وہیں ان میں مزاح اور حیرت کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ ان روایات میں سب سے مشہور کردار ’کاگانیر‘ ہے۔

اصطبل میں بیٹھا “قضائے حاجت” کرتا کردار

کاگانیر ایک چھوٹا سا مجسمہ ہوتا ہے جس میں ایک دیہاتی شخص، روایتی سرخ کاتالان ٹوپی (باریٹینا) پہنے، پتلون ٹخنوں تک اتارے قضائے حاجت کرتا دکھایا جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس مجسمے کو حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کے منظر یعنی نیٹیوٹی سین میں رکھا جاتا ہے، جہاں مریمؑ، یوسفؑ، چرواہے اور تین دانا بھی موجود ہوتے ہیں۔

بارسلونا اور کاتالونیا کے تاریخ دان دانی کورتیخو کے مطابق، “یہ کسی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں، کیٹالونیا میں نیٹیوٹی سین میں کاگانیر رکھنا بالکل معمول کی بات ہے۔”

البتہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ “کاتالونیا سے باہر کے لوگوں کے لیے یہ یقیناً غیر معمولی لگتا ہے۔”

یہ روایت کب اور کس نے شروع کی، اس کا کوئی واضح جواب موجود نہیں۔ تاہم کاتالونیا میں ایک عام عقیدہ ہے کہ اگر نیٹیوٹی سین میں کاگانیر نہ رکھا جائے تو آنے والا سال خوش قسمتی نہیں لاتا۔

زرخیزی اور قدیم عقائد کی علامت

ماہرین کے مطابق کاگانیر دراصل زرخیزی کی علامت ہے۔ کھیتوں میں کھاد ڈالنے سے فصل اچھی ہوتی ہے، اور یہی تصور اس مجسمے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ خیال قبل از مسیح، یعنی بت پرستانہ ادوار سے آیا ہے، جب انسان کی زندگی زمین اور کاشتکاری سے گہری وابستہ تھی۔

اسی تصور سے ایک کھیل بھی جڑا ہے جس میں والدین کاگانیر کو گھر میں مختلف جگہوں پر چھپا دیتے ہیں اور بچے اسے تلاش کرتے ہیں۔ خیال یہ ہے کہ مجسمہ جتنی جگہ “بیٹھے گا”، اتنی ہی زمین زرخیز ہوگی۔

تاریخی شواہد کے مطابق کاگانیر سترہویں اور اٹھارہویں صدی، یعنی باروک دور میں بھی نیٹیوٹی مناظر کا حصہ تھا، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی جڑیں رومی دور سے بھی پہلے کی مقامی ثقافت میں پیوست ہیں۔

مشہور شخصیات بھی کاگانیر بن گئیں

آج کے دور میں کاگانیر صرف ایک دیہاتی تک محدود نہیں رہا۔ اب یہ مجسمے سیاست دانوں، فنکاروں اور عالمی شخصیات کی شکل میں بھی دستیاب ہیں۔ ہر سال وہ شخصیات کاگانیر کی صورت اختیار کر لیتی ہیں جو خبروں میں نمایاں رہی ہوں۔

2019 میں روزالیا، بورس جانسن اور گریٹا تھنبرگ جیسے نامور افراد کے کاگانیر مجسمے خاصے مقبول رہے۔

کاگانیر اکیلا نہیں

کاگانیر کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کرسمس بازاروں، خصوصاً بارسلونا کے کیتھیڈرل کے سامنے لگنے والے سانتا لوثیا میلے میں یہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔ بہت سے لوگ انہیں بطور کلیکشن بھی جمع کرتے ہیں۔

یہ روایت صرف کاتالونیا تک محدود نہیں بلکہ ویلنشیا، مرسیا، پرتگال اور جنوبی اٹلی کے شہر نیپلز میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔

“پوپ” کرنے والا لکڑی کا لٹھا: تیو دے نادال

کاتالونیا میں ایک اور انوکھی روایت ’تیو دے نادال‘ یا ’کاگا تیو‘ ہے، جسے عام طور پر “پوپ لاگ” کہا جاتا ہے۔

یہ ایک لکڑی کا لٹھا ہوتا ہے جس پر چہرہ بنایا جاتا ہے، ٹوپی پہنائی جاتی ہے اور کمبل اوڑھایا جاتا ہے۔ بچے کرسمس سے پہلے اسے “کھلاتے” ہیں اور گرم رکھتے ہیں۔ کرسمس کی رات یا دن بچے اسے لکڑیوں سے مارتے اور گیت گاتے ہیں تاکہ یہ تحفے “نکالے”۔

یہ تحفے عام طور پر چھوٹے ہوتے ہیں، کیونکہ اصل تحائف 6 جنوری کو تین دانا یا مجوسی لے کر آتے ہیں۔

تاریخ دان دانی کورتیخو کے مطابق، تیو بھی قدیم بت پرستانہ عقائد سے جڑا ہے اور موسم کی تبدیلی اور قدرتی حرارت کی علامت ہے۔ لکڑی کو گھر لانا اور آگ جلانا فطرت کی نعمتوں کا جشن تھا۔

لوک کہانیوں میں فضلے کا کردار

کاتالان زبان میں بھی فضلے سے متعلق بے شمار محاورے اور کہاوتیں موجود ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ تصور ثقافت میں گہرائی تک پیوست ہے۔

چونکہ بائبل کی کرسمس کہانی میں فضلے کا کوئی ذکر نہیں ملتا، اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ روایات مسیحیت سے بھی پہلے کی ہیں۔

چاہے یہ زمین کی زرخیزی کے لیے قدیم رسومات ہوں یا آباؤ اجداد سے رابطے کی علامتیں، کاتالونیا کی کرسمس روایات آج بھی فخر، مزاح اور ثقافتی شناخت کے ساتھ منائی جاتی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے