Screenshot
اسپین کی حکومت آج منگل کے روز تمباکو سے متعلق نئے قانون کی منظوری دینے جا رہی ہے، جس کے تحت دھواں فری علاقوں میں اضافہ کیا جائے گا اور ویپ (الیکٹرانک سگریٹ) سمیت دیگر مصنوعات کے لیے قوانین مزید سخت کیے جائیں گے۔ اس مسودے کو بعد میں پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
اس قانون کے تحت ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ اب کم عمر افراد کے لیے سگریٹ نوشی بھی ممنوع ہوگی، جبکہ اس سے پہلے صرف خرید و فروخت پر پابندی تھی۔ اگر نابالغ سگریٹ نوشی کرتے ہوئے پائے گئے تو ان کے والدین پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ 2005 کے بعد تمباکو کے خلاف سب سے بڑی قانونی اصلاح ہے، جب بارز اور ریسٹورنٹس میں سگریٹ نوشی پر پابندی لگائی گئی تھی۔
یہ قانون چار بنیادی نکات پر مبنی ہے:
- دھواں فری علاقوں میں اضافہ
- کم عمر افراد کے لیے رسائی اور استعمال پر مزید پابندیاں
- الیکٹرانک سگریٹ اور دیگر مصنوعات کو روایتی سگریٹ کے برابر قرار دینا
- ہر قسم کی تشہیر اور پروموشن پر پابندی
نئے قانون کے مطابق اب درج ذیل مقامات پر بھی سگریٹ نوشی ممنوع ہوگی:
- کیفے اور ریسٹورنٹس کی ٹیرس
- عوامی سوئمنگ پول
- کھیلوں کی سہولیات
- کھلے میدانوں میں ہونے والے ایونٹس
- یونیورسٹیاں
- کمرشل گاڑیاں (سوائے ان کے جو صرف ذاتی استعمال میں ہوں)
اس کے علاوہ اسکولوں اور اسپتالوں کے ارد گرد کے علاقوں کو بھی خصوصی طور پر محفوظ زون قرار دیا جائے گا۔
قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کم عمر افراد نہ صرف سگریٹ بلکہ ویپ اور نکوٹین والی تھیلیوں کا استعمال بھی نہیں کر سکیں گے۔ ساتھ ہی جرمانوں کی کم از کم حد میں اضافہ کیا گیا ہے اور تمباکو سے متعلق مصنوعات کی فروخت اور تشہیر پر مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
حکومت نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا ہے کیونکہ اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ 14 سے 18 سال کے نوجوانوں میں روزانہ سگریٹ نوشی کی شرح 4.3 فیصد تک کم ہو گئی ہے، جو اب تک کی کم ترین سطح ہے، لیکن پچھلے ایک ماہ میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی شرح اب بھی 15.5 فیصد ہے۔
حکام کو خدشہ ہے کہ ویپ اور دیگر جدید مصنوعات، جو بظاہر کم نقصان دہ دکھائی دیتی ہیں، نوجوانوں کو نکوٹین کی لت کی طرف لے جانے کا نیا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
