مصنوعی طریقہ سے حمل ٹھہرانے کا علاج،ڈاکٹر جوڑوں کی بجائے اپنی منی استعمال کرتا رہا،عدالتی فیصلہ

Screenshot

Screenshot

نیدرلینڈز کی ایک عدالت نے ایک ہسپتال کو اس نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو ایک بیرونی گائناکالوجسٹ کی جانب سے خواتین کو ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر اپنے ہی منی سے بارآور کرنے کے نتیجے میں ہوا۔ یہ واقعہ 1980 کی دہائی میں پیش آیا تھا اور عدالت کے مطابق یہ ماں اور اس سے پیدا ہونے والے بچوں کی “جسمانی اور ذہنی سالمیت” کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

متاثرہ خاتون نے 1988 میں مصنوعی طریقے سے حمل ٹھہرنے کا علاج کروایا تھا، جس میں واضح طور پر یہ طے پایا تھا کہ اس کے اُس وقت کے شوہر کا منی استعمال کیا جائے گا۔ تاہم گائناکالوجسٹ نے جوڑے کو اطلاع دیے بغیر اپنا منی استعمال کیا، جس کے نتیجے میں خاتون کے ہاں تین بچے پیدا ہوئے۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس معاملے میں شہر زوولے کے متعلقہ ہسپتال کو ماں اور بچوں کو پہنچنے والے مادی اور غیر مادی نقصان کا ازالہ کرنا ہوگا۔ عدالت کے مطابق اگرچہ علاج ایک مخصوص ڈاکٹر نے کیا، مگر مریض اور ہسپتال کے درمیان بھی ایک معاہداتی تعلق موجود تھا، اس لیے ذمہ داری صرف ڈاکٹر تک محدود نہیں رہتی۔

ہسپتال کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ واقعے کو بیس سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باعث دعویٰ ناقابلِ سماعت ہے، تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی سنگین خلاف ورزی کے معاملے میں کیس کو محض مدت گزر جانے کی بنیاد پر بند کرنا “غیر معقول اور ناقابلِ قبول” ہے۔

اپیل کورٹ نے قرار دیا کہ ڈاکٹر کا طرزِ عمل معاہدے کی خلاف ورزی تھا جس کی ذمہ داری ہسپتال پر بھی عائد ہوتی ہے، اور یہ بچوں کے خلاف بھی ایک غیر قانونی فعل ہے، کیونکہ وہ برسوں تک یہ سمجھتے رہے کہ کوئی اور ان کا باپ ہے اور انہیں اپنے حقیقی حیاتیاتی والد کے بارے میں جاننے کا موقع نہیں ملا۔

عدالت نے مزید کہا کہ 1988 میں، موجودہ سول کوڈ کے نفاذ سے قبل، یہ عام بات تھی کہ ماہر ڈاکٹر ہسپتال میں داخلے کے معاہدے کے تحت کام کرتا تھا اور مریض ڈاکٹر کے ساتھ ہسپتال کے اندر ہی علاج کا معاہدہ کرتا تھا۔ اس صورتِ حال میں ماں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ یہ سمجھے کہ اس نے نہ صرف ڈاکٹر بلکہ ہسپتال کے ساتھ بھی علاج کا معاہدہ کیا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ متاثرین کو ہسپتال کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ معاوضے کی حتمی رقم کا تعین بعد میں نقصانات کے مکمل جائزے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ واقعہ نیدرلینڈز میں 1980 اور 1990 کی دہائیوں کے دوران زرخیزی کے علاج میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے سامنے آنے والے درجنوں کیسز میں سے ایک ہے۔

جان وائلڈشٹ کا کیس

زوولے کے اس کیس میں ہسپتال نے تسلیم کیا ہے کہ جان وائلڈشٹ 1981 سے 1993 تک وہاں کام کرتا رہا اور امکان ہے کہ اس نے اپنے منی کے ذریعے درجنوں بچوں کو جنم دیا، خواہ وہ ڈونر کے علاج ہوں یا ایسے طریقۂ علاج جن میں جوڑے کے منی کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ اکتوبر 2020 میں منظرِ عام پر آیا، جب ڈونیشن کے ذریعے پیدا ہونے والے ایک بچے نے ایک بین الاقوامی ڈی این اے ڈیٹا بیس کے ذریعے وائلڈشٹ کی بھانجی سے جینیاتی مماثلت دریافت کی۔ اس وقت تک مذکورہ ڈاکٹر کا انتقال ہو چکا تھا۔

بعد ازاں ہسپتال کی جانب سے عوامی اپیل کی گئی، جس کے بعد متعدد افراد نے خصوصی اداروں کے زیرِ انتظام ڈی این اے ڈیٹا بیس میں اپنی رجسٹریشن کروا دی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے