ڈنمارک میں امریکی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج
Screenshot
کوپن ہیگن (دوست نیوز)ہزاروں افراد نے ہفتے کے روز ڈنمارک کے مختلف بڑے شہروں میں مظاہرے کیے، جن کا مقصد امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ کے الحاق کے لیے ڈالا جانے والا دباؤ مسترد کرنا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے خلاف یہ احتجاج کیے گئے۔ اسی سلسلے میں گرین لینڈ کے دارالحکومت نووک میں بھی ایک مظاہرے کا اعلان کیا گیا تھا۔
ڈنمارک کے سرکاری نشریاتی ادارے ڈی آر کے مطابق نووک میں ہونے والے مظاہرے کے دوران شرکا نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’نووک ابھی‘‘ اور ’’گرین لینڈ سے ہاتھ ہٹاؤ‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔
برِ اعظم ڈنمارک میں دارالحکومت کوپن ہیگن میں سٹی ہال کے سامنے، جب کہ آل بورگ، کولڈنگ، اوڈنسے اور آرهوس میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ کوپن ہیگن کے مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور سٹی ہال اسکوائر گرین لینڈ کے جھنڈوں سے بھر گیا۔ اس موقع پر یونین آف کالمار کا پرچم بھی دیکھا گیا، جو چودھویں صدی میں ڈنمارک، سویڈن اور ناروے کے مختصر اتحاد کی علامت ہے۔
آرهوس میں مظاہرین نے ’’میک امریکہ گو اوے‘‘ (امریکہ کو یہاں سے جانا ہوگا) جیسے نعرے لگائے، جو ٹرمپ کے نعرے ’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ کی پیروڈی تھے۔ اس کے علاوہ گرین لینڈی زبان میں بھی نعرے بازی کی گئی اور امریکہ مخالف آوازیں بلند کی گئیں۔
کولڈنگ میں گرین لینڈ کے پرچم لہرائے گئے اور پلے کارڈز پر ’’گرین لینڈ سے ہاتھ ہٹاؤ‘‘ جیسے جملے درج تھے، جبکہ مظاہرین نے گرین لینڈی زبان میں گیت بھی گائے۔
مظاہرے کی منتظم تنظیم اوگوت (Uagut) کی ترجمان جولی رادے ماکر نے جذباتی انداز میں کہا،
’’یہ دیکھنا ناقابلِ یقین ہے کہ اتنے لوگ ہماری حمایت کے لیے آئے ہیں۔ میں اپنے آنسو نہیں روک پا رہی۔‘‘
یہ تنظیم ڈنمارک میں مقیم گرین لینڈی شہریوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ پیش رفت گرین لینڈ اور گرین لینڈی عوام پر دباؤ کا باعث بن رہی ہے، خواہ وہ گرین لینڈ میں ہوں یا ڈنمارک میں۔
’’اسی لیے ہم اتحاد کی اپیل کرتے ہیں۔ جب حالات خراب ہوں اور ہم زیادہ محتاط ہو جائیں تو ہمیں یہ خطرہ رہتا ہے کہ کہیں مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا نہ ہو جائیں۔‘‘
اس احتجاج کی حمایت ’’ہینڈز آف کالالیت نونات‘‘ شہری اقدام، انوئٹ (ڈنمارک میں گرین لینڈی مقامی تنظیموں کی مشترکہ انجمن) اور غیر سرکاری تنظیم میلم فولکلیگت سامویرکے نے بھی کی۔