اسپین میں نوجوان ووٹروں کا سیاسی رجحان تیزی سے بدل رہا ہے،سروے کیا کہتے ہیں؟

Screenshot

Screenshot

فیخو اور اباسکل نے 45 سال سے کم عمر ووٹروں میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے، وہ طبقہ جس پر کبھی پی ایس او ای کی گرفت تھی۔ بے روزگاری، غیر یقینی ملازمتوں اور رہائش کے بحران سے متاثر نوجوانوں کو واپس لانے کے لیے سانچیز نئی پالیسیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔

میڈرڈ(دوست نیوز)اسپین میں نوجوان ووٹروں کا سیاسی رجحان تیزی سے دائیں بازو کی طرف جھک رہا ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق پاپولر پارٹی (PP) اور ووکس (Vox) نے 45 سال سے کم عمر آبادی میں زبردست پیش رفت کی ہے، یہاں تک کہ وہ عمر کی تمام جماعتوں میں بائیں بازو کے اتحاد پر سبقت لے گئے ہیں۔ یہ وہ طبقہ تھا جو ایک عرصے تک سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کے لیے سہارا بنا رہا۔

سیگما دوس کے تازہ ترین سروے کے مطابق، اس وقت دائیں بازو کی جماعتیں مجموعی طور پر 49.9 فیصد ووٹ حاصل کر رہی ہیں۔ مارچ 2025 میں پی پی اور ووکس کو اگرچہ 45 سال سے زائد عمر کے ووٹروں میں برتری حاصل تھی، لیکن نوجوان طبقہ اب تک بائیں بازو کے ساتھ کھڑا تھا۔ اب صورتحال بدل چکی ہے۔ پی پی اور ووکس کی مجموعی حمایت تمام عمر کے گروہوں میں، بشمول نوجوانوں، بائیں بازو کی جماعتوں پی ایس او ای، سُمار اور پودیموس سے زیادہ ہو چکی ہے۔

گزشتہ ایک سال میں 45 سال سے کم عمر آبادی میں واضح طور پر دائیں بازو کی طرف رجحان بڑھا ہے۔ 18 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں مارچ 2025 میں پی پی اور ووکس کی مجموعی حمایت 37.8 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 51.5 فیصد ہو چکی ہے، یعنی تقریباً 14 پوائنٹس کا اضافہ۔ اسی طرح 30 سے 44 سال کے افراد میں دائیں بازو کی حمایت 42.8 فیصد سے بڑھ کر 49.3 فیصد ہو گئی ہے۔

اگر دیگر قدامت پسند جماعتوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو دائیں بازو تمام عمر کے گروہوں میں 50 فیصد کی حد عبور کر چکا ہے۔ اس کے برعکس بائیں بازو کی جماعتوں کی مجموعی حمایت نوجوانوں میں کم ہو کر 18 سے 29 سال کی عمر میں 37.2 فیصد اور 30 سے 44 سال کی عمر میں 39.2 فیصد رہ گئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوانوں کے اندر بھی فرق نمایاں ہے۔ 18 سے 29 سال کی عمر، یعنی جنریشن زیڈ، میں پی پی کا ووٹ نمایاں طور پر بڑھا ہے، جبکہ 30 سے 44 سال کے ملینیئلز میں ووکس کو زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ اس تبدیلی میں پی ایس او ای دونوں گروہوں میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والی جماعت بن کر ابھری ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ دائیں بازو نہ صرف روایتی قدامت پسند ووٹر بلکہ وسطی طبقے کے ووٹ بھی اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوا ہے۔

جنریشن زیڈ میں ووکس کی حمایت پہلے ہی خاصی مضبوط تھی اور اس میں نسبتاً کم اضافہ ہوا، جبکہ پی پی نے کم وقت میں اپنی حمایت میں دس پوائنٹس سے زائد اضافہ کر لیا۔ بائیں بازو کی تمام جماعتوں کو اس عمر کے گروہ میں نقصان ہوا، حالانکہ حکومت نے نوجوانوں کے لیے کلچرل بونو، سفری رعایتیں، ٹرانسپورٹ میں چھوٹ اور کرایہ مکانات کے لیے امدادی اسکیمیں متعارف کرائیں، مگر یہ اقدامات انتخابی فائدہ دینے میں ناکام رہے۔

دوسری جانب 30 سے 44 سال کے ملینیئلز میں پی پی کی حمایت تقریباً وہی رہی، جبکہ ووکس نے نمایاں اضافہ کیا۔ اس عمر کے گروہ میں پی ایس او ای کو بھی کم حمایت حاصل ہے، اگرچہ پوڈیموس اور دیگر بائیں بازو کی جماعتیں ابھی تک کچھ حد تک اس کمی کو سہارا دے رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ وہ نسل ہے جو بہتر مستقبل کے وعدے کے ساتھ بڑی ہوئی، مگر 2008 کے معاشی بحران اور اس کے بعد کی صورتحال نے روایتی سیاسی جماعتوں پر اعتماد کو مجروح کیا۔ یونیورسٹی آف سانتیاگو کی سیاسیات کی ماہر پالومہ کاسترو کے مطابق، ملینیئلز نے ان جماعتوں کو ناکام دیکھا جو ان کے مسائل حل کرنے سے قاصر رہیں۔

اسی تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان ووٹ واپس حاصل کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو شناختی سیاست کے بجائے عملی اور معاشی مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ خاص طور پر وہ نسل جو کم اجرتوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔

پیدرو سانچیز نے حالیہ دنوں میں زرعی شعبے میں نسلوں کی تبدیلی کے لیے فنڈز اور کرایوں میں کمی کے لیے نئی تجاویز پیش کی ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نوجوانوں کے حق میں ایسی پالیسیاں اپنانے سے حکومت کو اپنے روایتی ووٹر، خاص طور پر بزرگ طبقے، کو ناراض کرنے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔

حالیہ سروے سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنریشن زیڈ اور ملینیئلز کی بڑی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ ان کے مستقبل کے مواقع پچھلی نسلوں کے مقابلے میں کم ہیں، خاص طور پر گھر خریدنے اور خاندان بنانے کے حوالے سے۔ جب تک رہائش کے بحران کا کوئی ٹھوس حل سامنے نہیں آتا، نوجوان ووٹر حکومت کو سزا دیتے ہوئے دائیں بازو کی طرف رخ کرتے رہیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے