گرین لینڈ میں فوجی مشقیں کسی کے لیے خطرہ نہیں، آٹھ یورپی ممالک کا مؤقف

Screenshot

Screenshot

برلن (دوست نیوز)آٹھ یورپی ممالک اور نیٹو کے رکن ملکوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ میں ان کی فوجی سرگرمیاں “کسی کے لیے کوئی خطرہ نہیں”۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں نیٹو اتحادیوں کے درمیان پہلے سے طے شدہ تعاون کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد آرکٹک خطے میں مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ ردِعمل اس اعلان کے بعد سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ گرین لینڈ میں فوجی دستے بھیجنے والے یورپی ممالک پر امریکہ یکم فروری سے 10 فیصد درآمدی محصولات عائد کرے گا، جو جون میں بڑھا کر 25 فیصد کر دیے جائیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ محصولات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک امریکہ گرین لینڈ کی “مکمل اور حتمی خریداری” سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں کر لیتا۔

جرمنی، فن لینڈ، فرانس، ناروے، نیدرلینڈز، برطانیہ، سویڈن اور میزبان ملک ڈنمارک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ نیٹو کے رکن کی حیثیت سے آرکٹک سلامتی کو ایک مشترکہ ٹرانس اٹلانٹک مفاد سمجھتے ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ڈنمارک کی زیرِ قیادت “آرکٹک ریزسٹنس” کے نام سے ہونے والی یہ مشقیں اتحادیوں کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت انجام دی گئیں اور ان کا مقصد کسی کو دھمکانا نہیں۔

محصولات کے حوالے سے ان ممالک نے خبردار کیا کہ “تجارتی پابندیوں کی دھمکیاں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہیں اور ایک خطرناک منفی سلسلے کو جنم دے سکتی ہیں”۔ مشترکہ بیان میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ تمام ممالک اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم پر متحد اور مربوط ہیں اور اسی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

ادھر جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق جرمنی کا فوجی دستہ، جو پہلے سے طے شدہ شیڈول کے تحت گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں تعینات تھا، اتوار کے روز واپس روانہ ہو گیا۔ وزارت نے واضح کیا کہ یہ واپسی منصوبے کے مطابق ہے اور مشن نہ تو ختم ہوا ہے اور نہ ہی منسوخ کیا گیا ہے۔ مختلف ممالک سے مجموعی طور پر تقریباً 35 فوجی اس مشن میں شامل تھے۔

ڈنمارک اور اس کے اتحادیوں کا مقصد اس مشن کے ذریعے یہ پیغام دینا تھا کہ وہ گرین لینڈ جیسے وسیع و عریض علاقے، جو 21 لاکھ 60 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے، کے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اقدام دراصل صدر ٹرمپ کے اس دعوے کا جواب تھا جس میں انہوں نے ڈنمارک کی دفاعی صلاحیت پر سوال اٹھایا تھا۔ یورپی ممالک نے اس ذریعے سے امریکہ کو فوجی مداخلت سے باز رکھنے کا پیغام بھی دینے کی کوشش کی۔

قابلِ ذکر ہے کہ ڈنمارک کا آرکٹک کمانڈ، جو گرین لینڈ اور فیرو جزائر کے دفاع کا ذمہ دار ہے، نوک میں قائم ہے اور اس میں تقریباً 200 فوجی شامل ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے بھی گرین لینڈ کے شمال مغرب میں واقع پیٹیفک اسپیس بیس پر تقریباً 200 فوجی تعینات ہیں، جن کی ذمہ داریوں میں خلائی نگرانی، ممکنہ میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع اور امریکی دفاعی سیٹلائٹس کا کنٹرول شامل ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے