ٹرمپ کی متنازعہ امن کمیٹی سے اسپین کی علیحدگی، سانچیز کا اقوامِ متحدہ کے نظام سے وابستگی پر زور

Screenshot

Screenshot

برسلز(دوست نیوز)اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ اسپین امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قائم کردہ نام نہاد امن کمیٹی میں شرکت نہیں کرے گا۔ یہ وہ فورم ہے جس کے بارے میں ٹرمپ نے یہاں تک کہا تھا کہ یہ اقوامِ متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے۔

برسلز میں یورپی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سانچیز نے کہا:“ہم نے دعوت کے لیے شکریہ ادا کیا ہے، مگر اس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔”

وزیرِاعظم کے مطابق یہ فیصلہ یورپی یونین کے دیگر شراکت داروں کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا گیا۔ فرانس، جرمنی، سویڈن اور ناروے پہلے ہی اس فورم میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں۔ اس کے برعکس ٹرمپ کے قریبی سمجھے جانے والے رہنماؤں، جن میں ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی، اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان شامل ہیں، نے شرکت قبول کی ہے۔ یورپی یونین کا ایک رکن ملک بلغاریہ بھی اس میں شامل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ بیلاروس، مصر، مراکش، سعودی عرب اور ترکی بھی اس کمیٹی کا حصہ بنے ہیں۔

سانچیز نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم “ہماری اصولی پالیسی” کے تحت اٹھایا گیا ہے، کیونکہ انہیں شدید شبہ ہے کہ یہ نیا ادارہ اقوامِ متحدہ کے کثیرالجہتی نظام اور اس کے قواعد کے مطابق کام کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کمیٹی میں فلسطینی اتھارٹی کو شامل نہیں کیا گیا، جو غزہ میں امن کے دعوے کے برعکس ہے۔

یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے بھی امن کمیٹی کے دائرۂ اختیار، اس کی حکمرانی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر سے مطابقت پر “سنگین تحفظات” کا اظہار کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کئی یورپی ممالک کے لیے روس اور بیلاروس جیسے ممالک کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنا مشکل ہے، خاص طور پر یوکرین کی جنگ کے تناظر میں۔

ادھر سانچیز نے دفاعی اخراجات کے معاملے پر بھی ٹرمپ سے اختلاف کیا۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر اسپین پر تنقید کی کہ وہ دفاعی بجٹ کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک نہیں لے جا رہا۔ اس پر سانچیز نے کہا کہ ان کے دور میں اسپین نے دفاعی اخراجات تین گنا بڑھا کر سالانہ 34 ارب یورو کر دیے ہیں، جو یورپی یونین کے 13 ممالک کے مجموعی اخراجات سے زیادہ ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کی قربانی دے کر فوجی بجٹ نہیں بڑھایا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے