مسلمان طالبہ کے حق میں فیصلہ،حجاب پر پابندی مذہبی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے،عدالت
Screenshot
لگرونیو (دوست نیوز)اسپین سے ایک اہم اور دور رس اثر رکھنے والا عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے، جہاں عدالت نے ایک مسلمان طالبہ کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔
17 سالہ ایمان اکرم، جو لوگرونیو کے ایک سرکاری ادارے میں انٹرنیشنل بیکلوریٹ کی طالبہ ہیں، کو صرف اس وجہ سے کلاس سے نکال دیا گیا کہ وہ حجاب پہن کر آئی تھیں۔
ادارے کا کہنا تھا کہ اسکول کے ضابطوں کے مطابق سر ڈھانپنے کی اجازت نہیں، لیکن ایمان کا مؤقف تھا کہ حجاب کوئی فیشن نہیں بلکہ ان کے مذہبی عقیدے اور شناخت کا حصہ ہے۔
اس معاملے پر ایمان نے قانونی اور عوامی دونوں سطحوں پر آواز اٹھائی، جس پر آٹھ ہزار سے زائد افراد نے ان کی حمایت کی۔
لوگرونیو کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حجاب پر پابندی مذہبی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، جو ہسپانوی آئین کے تحت محفوظ ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کی خودمختاری مطلق نہیں ہوتی، اور انہیں آئین اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنا لازم ہے۔
عدالت نے ایمان اکرم کو اخلاقی نقصان کے ازالے کے طور پر دو ہزار یورو معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا ہے۔
فیصلہ صرف ایک طالبہ کی کامیابی نہیں، بلکہ اسپین میں رہنے والی تمام مذہبی اقلیتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ آئین سب کے حقوق کا محافظ ہے۔