اسپین میں غیر قانونی امیگریشن کی صورتحال: کن افراد کو ریگولرائزیشن کا حق مل سکے گا
اسپین میں غیر قانونی امیگریشن ایک بڑا سماجی اور انتظامی چیلنج بنی ہوئی ہے۔ فنکاس کی جانب سے جنوری 2026 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، 2025 کے آغاز تک اسپین میں انتظامی طور پر غیر قانونی حیثیت رکھنے والے غیر ملکیوں کی تعداد تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ یہ تعداد یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے آنے والی مجموعی آبادی کا 17.2 فیصد بنتی ہے۔
یہ اضافہ 2017 کے مقابلے میں نہایت نمایاں ہے، جب غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد صرف ایک لاکھ کے قریب تھی۔ اسی عرصے میں اسپین میں غیر یورپی ممالک سے آنے والے رہائشیوں کی تعداد 25 لاکھ سے بڑھ کر 49 لاکھ ہو گئی، یعنی آٹھ سال میں تقریباً دوگنا۔ جبکہ غیر قانونی حیثیت رکھنے والوں کی تعداد میں آٹھ گنا اضافہ ہوا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ امیگریشن میں ہونے والا بڑا اضافہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جو نہ تو کام کرنے کا اجازت نامہ حاصل کر پاتے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر صحت کی سہولیات تک رسائی رکھتے ہیں۔
غیر قانونی تارکینِ وطن کہاں سے آتے ہیں؟
2025 میں غیر قانونی حیثیت رکھنے والے غیر ملکیوں میں 91 فیصد افراد کا تعلق امریکی براعظم سے تھا، جن میں خاص طور پر کولمبیا، پیرو اور ہونڈوراس نمایاں ہیں۔ صرف کولمبیا کے شہریوں کی تعداد ہی تقریباً 2 لاکھ 90 ہزار بتائی جاتی ہے۔
اس کے بعد افریقی ممالک کے شہری، ایشیائی ممالک اور یورپ کے غیر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد آتے ہیں۔
فنکاس نے یہ اندازے سرکاری آبادی کے اعداد و شمار کو رہائشی اجازت ناموں، تعلیمی ویزوں اور زیرِ التوا پناہ کی درخواستوں کے ریکارڈ سے موازنہ کر کے لگائے ہیں۔ ان دونوں میں فرق کو غیر قانونی حیثیت رکھنے والی آبادی تصور کیا گیا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر ہسپانوی حکومت نے 2024 میں غیر ملکیوں سے متعلق ایک نیا ضابطہ منظور کیا، جو مئی 2025 سے نافذ العمل ہوا۔ اس کا مقصد خاص طور پر سماجی، لیبر اور تعلیمی بنیادوں پر ارائیگو (arraigo) کے ذریعے ریگولرائزیشن کے عمل کو آسان بنانا ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق، اس اصلاح سے 2025 سے 2027 کے درمیان تقریباً 9 لاکھ افراد کو قانونی حیثیت مل سکتی ہے۔
مزید برآں، حال ہی میں وزرائے کونسل نے غیر ملکی قانون میں ترمیم سے متعلق ایک نیا شاہی فرمان (ریئل ڈکری) منظور کیا ہے، جس کا مقصد تقریباً 5 لاکھ تارکینِ وطن کی قانونی حیثیت کو درست کرنا ہے۔ اس کے تحت دستاویزات کے لیے درخواست دینے کی مدت اپریل کے آغاز سے 30 جون تک ہوگی۔
وزارتِ امیگریشن کے مطابق یہ اقدام خاص طور پر ان افراد کے لیے ہے:
- جنہوں نے 31 دسمبر 2025 سے پہلے پناہ (اسائلم) کی درخواست دی ہو
- یا جو 31 دسمبر 2025 سے پہلے کم از کم پانچ ماہ اسپین میں مقیم رہے ہوں
اسپین یورپی یونین میں پناہ کی درخواستوں کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک ہے، جو جرمنی اور فرانس کے بعد آتا ہے۔ 2025 میں اسپین میں 1 لاکھ 44 ہزار سے زائد نئی پناہ کی درخواستیں جمع ہوئیں۔ اسی سال پناہ کے ادارے نے 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے، جو 2024 کے مقابلے میں 67 فیصد زیادہ اور ادارے کی تاریخ کی سب سے بلند سطح ہے۔
فنکاس کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ امیگریشن کے رجحانات برقرار رہے تو غیر قانونی حیثیت رکھنے والے افراد کی تعداد ہر سال تقریباً 90 ہزار کے حساب سے مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔