اسپین: بچوں کو بیل بازی اور شکار جیسے پروگراموں اور تقریبات میں شرکت سے روکا جائے

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ(دوست نیوز)اسپین کی وزارتِ نوجوانان و اطفال نے تجویز پیش کی ہے کہ کم عمر بچوں اور نوعمروں کو ایسے تمام پروگراموں، تقریبات اور سرگرمیوں میں شرکت یا ناظر ہونے سے روکا جائے جہاں جانوروں پر تشدد کیا جاتا ہو، جیسے بیل بازی اور شکار۔ یہ اقدام بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون (LOPIVI) میں توسیع کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔

Screenshot

یہ تجویز اقوام متحدہ کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے پیش کی گئی، جو 2018 سے اسپین کو بچوں کو تشدد سے دور رکھنے کی ہدایت دے رہی ہیں۔ وزارت کے مطابق کم عمری میں تشدد کا مشاہدہ بچوں کی نفسیاتی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اور انہیں تشدد کو معمول سمجھنے کی عادت ڈال سکتا ہے۔

مسودہ قانون دیگر ترامیم بھی پیش کرتا ہے، جن میں شامل ہیں:

  • عدالتی کارروائیوں میں بچوں کی رائے کو ہر عمر میں سنا جائے گا۔
  • بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی میعادِ معافی 45 سال تک بڑھائی جائے گی۔
  • گھریلو تشدد کے مرتکب افراد بچوں سے متعلق کام نہیں کر سکیں گے۔
  • پہلی بار ریاستی سطح پر ’’ادارہ جاتی تشدد‘‘ کو تسلیم کیا جائے گا اور اس کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی۔

وزیر سیرا ریگو کے مطابق یہ اصلاحات منظوری کے بعد کابینہ میں پیش کی جائیں

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے