اتھارٹی لیٹر کے حصول کے لئے بارسلونا میں پاکستانی قونصل خانے کے باہرلمبی قطاریں
Screenshot
بارسلونا میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر اس وقت غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری مستقل رہائشی حیثیت حاصل کرنے کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے اتھارٹی لیٹر بنوانے کے لئے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ یہ کریکٹر سرٹیفکیٹ قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے لازمی دستاویز ہے اور واحد کاغذ ہے جو تارکین وطن کو اپنے آبائی ملک کی انتظامیہ سے حاصل کرنا ہوتا ہے۔
حکومت کی جانب سے منظور کی گئی غیر معمولی ریگولرائزیشن اسکیم سے کاتالونیا میں مقیم تقریباً تمام قومیتیوں کےایک لاکھ پچاس ہزار غیر قانونی تارکین وطن فائدہ اٹھا سکیں گے۔جس میں قونصل جنرل مراد علی وزیر کے مطابق پاکستانی تقریبا اٹھارہ بیس ہزار ہیں ، درخواست جمع کراتے وقت مختلف دستاویزات درکار ہوں گی، جن میں سب سے اہم یہ ثبوت ہے کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی فوجداری ریکارڈ موجود نہیں۔ پاکستانی شہریوں کے لیے اس سرٹیفکیٹ کے حصول کے لئے اتھارٹی لیٹر پاکستانی قونصل خانے سے ہی جاری ہوتا ہے۔
جمعرات کی صبح پاکستانی قونصل خانہ، جو ایونیدا دی ساریّا اور کاریر کومتے بورئی کے قریب واقع ہے، غیر معمولی مناظر کا گواہ بنا۔ بعض افراد رات دو بجے سے قطار میں موجود تھے۔ دن چڑھنے کے ساتھ ساتھ قطار تقریباً تین سو میٹر تک پھیل گئی، جس کے باعث صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے موسوس د اِسکوادرا کی دو گاڑیاں اور دو وینز، جبکہ گواردیا اربانا کی متعدد ٹیمیں تعینات کی گئیں تاکہ ٹریفک روانی برقرار رکھی جا سکے اور سڑک بند نہ ہو۔
قطار میں کھڑے افراد میں بے چینی ضرور تھی مگر امید اور اطمینان بھی نمایاں تھا۔ افاق نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ بدھ کے روز اسپین میں پاکستانی سفارت خانے نے ایک فارم جاری کیا ہے، جس کے ذریعے پاکستان میں موجود اہلِ خانہ کو وکالت دی جا سکتی ہے تاکہ وہ وہاں سے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کر کے بھیج سکیں۔ افاق کے مطابق، “پاکستان میں کام بہت سست رفتاری سے ہوتا ہے، اسی لیے ہم سب نے فوراً آنا بہتر سمجھا۔”
افاق گزشتہ ایک سال اور چار ماہ سے اسپین میں مقیم ہیں اور صبح سات بجے سے قطار میں کھڑے ہونے کے باوجود پُرامید نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا، “بغیر کاغذات کے زندگی بہت مشکل ہوتی ہے، اس لیے ہم سب بہت خوش ہیں۔” ان کے ساتھ کھڑے دیگر افراد بھی اثبات میں سر ہلاتے دکھائی دیے۔
دوسری جانب عادل، جو قونصل خانے کے دفتر سے باہر نکلتے وقت نسبتاً مطمئن نظر آ رہے تھے، اپنے ہاتھ میں سبز مہر والا تصدیق شدہ دستاویز لیے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد کو پاکستان میں متعلقہ ضلع میں ضروری کاغذات جمع کرانے کا اختیار دے دیا ہے۔ “میں صبح آٹھ بجے کے قریب آیا تھا، آج قسمت اچھی رہی،” تقریباً چالیس سالہ عادل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اگرچہ بہت سے افراد نے مطلوبہ دستاویز حاصل کر لی ہے، تاہم اصل مرحلہ ابھی باقی ہے۔ توقع ہے کہ ریگولرائزیشن کے لیے درخواستوں کا باقاعدہ آغاز اپریل کے اوائل میں ہوگا۔ اس کے بعد درخواست گزاروں کو 30 جون تک پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ اور کم از کم پانچ ماہ سے اسپین میں قیام کا ثبوت جمع کرانا ہوگا۔
ادھر وینزویلا اور کولمبیا کے قونصل خانوں میں صورتحال نسبتاً پُرسکون رہی۔ پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ یا تو ان ممالک میں دفتری امور زیادہ تیز رفتاری سے انجام پاتے ہیں یا پھر اس لیے کہ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ ابھی اپریل میں ہے، جس کے باعث وہاں فوری دباؤ کم ہے۔