سانچیز حکومت کی غیر معمولی امیگرنٹس ریگولرائزیشن کی اکثریت مخالفت،سروے
Screenshot
بارسلونا(دوست نیوز)ہسپانوی وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کو اجتماعی طور پر قانونی حیثیت دینے کے منصوبے کو ملک میں اکثریتی مخالفت کا سامنا ہے۔ اخبار ایل مُندو کے لیے سگما دوس کے تازہ سروے کے مطابق 55.1 فیصد ہسپانوی شہری اس فیصلے کے خلاف ہیں، جبکہ اس کے حامیوں کی شرح 44.9 فیصد ہے۔
یہ مجوزہ ریگولرائزیشن، جو سانچیز حکومت اور پودیموس کے درمیان طے پائی ہے، پانچ لاکھ سے زائد غیر ملکی شہریوں کو متاثر کرے گی۔ سروے کے مطابق مخالفت صرف اپوزیشن تک محدود نہیں بلکہ خود حکومتی جماعت PSOE کے 37.2 فیصد ووٹرز بھی اس اقدام سے متفق نہیں، جبکہ سُمار پارٹی کے ووٹرز میں یہ شرح 18.9 فیصد ہے۔
سیاسی جماعتوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پی پی کے 72.4 فیصد اور ووکس کے 84.1 فیصد ووٹرز اس اقدام کے خلاف ہیں۔ دیگر جماعتوں کے ووٹرز میں بھی 53 فیصد نے مخالفت کی، جبکہ گزشتہ انتخابات میں ووٹ نہ ڈالنے والوں میں یہ شرح 68.2 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
سروے میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیوں کیا۔ 43.6 فیصد جواب دہندگان کے مطابق اس کے پیچھے وزیرِاعظم کا انتخابی حساب کتاب ہے۔ 17 فیصد نے اسے معاشی و لیبر وجوہات سے جوڑا، 10.9 فیصد نے بیرونی دباؤ کو وجہ قرار دیا، جبکہ صرف 1.9 فیصد افراد نے اسے خالصتاً انسانی ہمدردی پر مبنی قدم سمجھا۔
حکومت کی جانب سے مختلف غیر متعلقہ اقدامات کو ایک ہی فرمان (اومنی بس ڈکری) میں شامل کرنے کے طریقہ کار کو بھی عوامی سطح پر سخت ناپسند کیا گیا۔ 57.5 فیصد افراد نے اس حکمتِ عملی کی مخالفت کی۔ یہاں تک کہ PSOE کے 38.1 فیصد اور سُمار کے 32 فیصد ووٹرز بھی اس طریقے کے خلاف نکلے۔
البتہ سروے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ بعض انفرادی اقدامات کو عوامی حمایت حاصل ہے۔ کمزور خاندانوں کے لیے بے دخلی پر پابندی میں توسیع کی 49 فیصد نے حمایت کی، جبکہ 36.6 فیصد نے مخالفت کی اور 14.4 فیصد غیر فیصلہ کن رہے۔
پنشنوں میں اضافے کے معاملے پر تقریباً تمام جماعتوں کے ووٹرز متفق نظر آئے۔ 79.7 فیصد افراد پنشن بڑھانے کے حق میں ہیں، اگرچہ ووکس کے 24.8 فیصد ووٹرز اس کے مخالف ہیں۔ کم از کم پنشن میں اضافے پر بھی ووکس کے 31.3 فیصد، پی پی کے 27.3 فیصد اور PSOE کے قریب 10 فیصد ووٹرز نے اعتراض کیا۔
ویلینسیا کے دانا طوفان سے متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی پیکج کی توسیع پر تقریباً مکمل اتفاقِ رائے پایا گیا، جہاں 89.2 فیصد افراد نے اس اقدام کی حمایت کی۔