“کاش ہم مہاجرین اور محنت کش عوام کے ساتھ مل کر اس ملک کو نسل پرستوں اور فاشسٹوں سے صاف کر دیں”آئرین مونتیرو
Screenshot
میڈرڈ/ یورپی پارلیمنٹ کی رکن اور پودیموس کی سیاسی سیکریٹری آئرین مونتیرو نے کہا ہے کہ “کاغذات دراصل حقوق ہوتے ہیں” اور یہ کہ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینا کوئی “احسان” نہیں بلکہ ایک “ادھورا قرض” ہے، کیونکہ “کوئی بھی انسان غیر قانونی نہیں ہوتا”۔
پودیموس نے اسپین کی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی غیر معمولی ریگولرائزیشن کو ایک “فتح” قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس بات کے لیے کام کرے گا کہ ان افراد کو ووٹ کا حق بھی ملے، یا تو شہریت کے حصول کو آسان بنا کر یا پھر ووٹ کے حق سے متعلق قانون میں تبدیلی کے ذریعے۔
یہ بات آئرین مونتیرو نے زاراگوزا میں پودیموس کے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران کہی، جو 8 فروری کے انتخابات کی مہم کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر پودیموس کی سیکریٹری جنرل اور رکنِ پارلیمنٹ ایونے بیلارا، اراغون کی صدارت کے لیے پودیموس،الیانزا وردے کی امیدوار ماریا گوئیکوئتسیا، ہوئسکا سے امیدوار خوسے آنخل پیریز مارکوئیلو، الیانزا وردے کے وفاقی کوآرڈینیٹر خوانچو لوپیز دے اورالدی اور کینال ریڈ کی صحافی لورا آرویو بھی موجود تھیں۔
آئرین مونتیرو نے متنازعہ “نظریۂ متبادل” کا دفاع کرتے ہوئے کہا:“کاش ہم مہاجرین اور محنت کش لوگوں کے ساتھ مل کراس ملک کو فاشسٹوں اور نسل پرستوں سے صاف کر دیں،
انہوں نے زور دیا کہ “کاغذات حقوق ہوتے ہیں” اور یہ کوئی تحفہ نہیں بلکہ ایک واجب الادا قرض ہے، کیونکہ “کوئی انسان غیر قانونی نہیں ہوتا”۔ ان کے بقول غیر قانونی کام وہ ہیں جیسے “دانا طوفان کے متاثرین کے لیے چندہ اکٹھا کر کے وہ رقم خود رکھ لینا، جیسا کہ ووکس کی نوجوان تنظیم نے کیا”، یا “کالے دھن سے پارٹی دفتر بنانا اور امیروں کے لیے ٹیکس ایمنسٹی کرنا”۔
انہوں نے مہاجر اور نسلی امتیاز کا شکار افراد سے اپیل کی:“براہِ کرم ہمیں اتنے سارے فاشسٹوں کے درمیان اکیلا نہ چھوڑیں۔”
اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ وہ “متبادل” کے حق میں ہیں، مگر “فاشسٹوں، نسل پرستوں اور مفت خوروں کے متبادل” کے، جن کی جگہ اس ملک کے محنت کش لوگ لیں، “چاہے ان کی جلد کا رنگ کچھ بھی ہو”۔
مونتیرو نے امریکہ میں ہونے والی ڈی پورٹیشنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسپین میں بھی غیر دستاویزی تارکینِ وطن خوف کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاہدے پر تنقید کرنے والوں، بالخصوص ووکس کے سربراہ سانتیاگو آباسکال، پر شدید تنقید کی اور انہیں “آئیبریا کا نر”، “جاگیردار ذہنیت کا آدمی” اور “دوسروں کے سہارے جینے والا” قرار دیا، جو گھوڑے پر سیر کرنا چاہتا ہے کیونکہ “برتن دھونا اس کے شایانِ شان نہیں”، اور جو غلامی کی سوچ رکھتا ہے مگر خود کو بہت بڑا محبِ وطن ظاہر کرتا ہے۔
اپنے مؤقف کے حق میں انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسپین میں “سب سے امیر 20 فیصد آبادی کو 30 فیصد سے زیادہ سرکاری امداد ملتی ہے، جبکہ سب سے غریب 20 فیصد کو صرف 12 فیصد”۔ ان کے مطابق نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ نیچے کے لوگ دولت پیدا کریں اور اوپر والے “سب کچھ سمیٹ لیں”۔
اسی جلسے میں پودیموس کی سیکریٹری جنرل ایونے بیلارا نے بھی مہاجرین کے حقِ رائے دہی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال “مردم شماری پر مبنی حقِ رائے دہی” جیسی ہے۔ ان کا کہنا تھا:“اگر آپ یہاں رہتے ہیں تو آپ کو یہاں ووٹ دینے کا حق بھی ہونا چاہیے، تاکہ آپ جان سکیں کہ آپ کے ٹیکس کہاں جا رہے ہیں۔”
پودیموس نے “انسانیت پسندی” اور اس یقین کے تحت کہ “ہم سب ایک ہی انسانی قوم ہیں”، اعلان کیا کہ وہ سب کے حقوق کا دفاع کرے گا، “چاہے اس کی کوئی بھی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے”۔
جلسے کے دوران آئرین مونتیرو نے ایک چھوٹی سی شیشی بھی دکھائی جس میں، ان کے بقول، انہوں نے ریگولرائزیشن کے معاہدے کے بعد “فاشسٹوں اور نسل پرستوں کے آنسو” جمع کر رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا:“وہ غصے میں ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ مہاجر اور نسلی امتیاز کا شکار لوگ بغیر حقوق کے، دبے ہوئے، کسی بھی شرط پر کام کرنے پر مجبور رہیں، لیکن پودیموس کے ہوتے ہوئے ایسا نہیں ہوگا۔”
آخر میں انہوں نے تارکینِ وطن سے اپیل کی کہ وہ “کھڑے ہوں، ہمارے ساتھ مل کر ایک باوقار ملک، مضبوط عوامی خدمات اور بہتر مستقبل کے لیے کام کریں، آگے بڑھیں اور سیاست میں آئیں”۔
اس موقع پر کینال ریڈ کی صحافی لورا آرویو نے بھی سیاسی سرگرمی میں عملی شرکت پر زور دیا اور کہا کہ صرف ٹوئٹ کرنا یا مظاہرے میں جانا کافی نہیں۔ انہوں نے پودیموس کے چار اراکینِ پارلیمنٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ “انہوں نے اس ہفتے وہ کام کیا ہے جو پانچ وزارتیں یا سو نشستیں بھی نہیں کر سکیں”۔