جنوبی پاکستان میں مربوط کارروائی، 10 پولیس اہلکار اور 37 باغی ہلا

IMG_0088

کوئٹہ: پاکستان کے جنوبی صوبے بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے کیے گئے ایک مربوط حملے کے نتیجے میں کم از کم 10 پولیس اور سکیورٹی اہلکار جبکہ 37 باغی مارے گئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ حملے ہفتے کے روز مختلف مقامات پر بیک وقت کیے گئے۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملے “ناقص منصوبہ بندی” کے حامل تھے اور سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تمام مقامات پر صورتِ حال کو چند گھنٹوں میں قابو میں کر لیا۔ حکام کے مطابق فورسز نے حملہ آوروں کو ناکام بنایا اور علاقے میں کنٹرول بحال کر دیا۔

ان حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے، جس نے اس کارروائی کو “آپریشن ہیروف 2.0” یا “بلیک اسٹورم” کا نام دیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران صوبے کے کم از کم 12 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

سکیورٹی حکام کے مطابق جھڑپوں اور بعد کی کارروائیوں میں 10 پولیس اور سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 37 باغی ہلاک ہوئے۔ پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت حملہ آوروں کو “فتنہ الہندوستان” قرار دیتی ہے، اور الزام عائد کرتی ہے کہ یہ گروہ بھارت کی پشت پناہی سے پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ “پاکستان کے بہادر سپوتوں نے بروقت اور مؤثر اقدامات کیے اور بڑے حملے کو ناکام بنایا۔”

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ باغیوں نے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، تاہم ریاستی اداروں کی جوابی کارروائی فیصلہ کن رہی۔ ان کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران صوبے میں مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 88 باغی مارے جا چکے ہیں، جن میں سے 41 باغی جمعرات کے روز دو الگ الگ آپریشنز میں ہلاک ہوئے۔

واضح رہے کہ بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے شورش کا شکار ہے، جہاں بلوچ قوم پرست گروہ صوبے کی علیحدگی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت صوبے کے قدرتی وسائل کا غیر منصفانہ استحصال کر رہی ہے، جس کے باعث بدامنی اور مزاحمت کو تقویت ملی ہے

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے