قونصل خانوں کے باہر طویل قطاریں اور اپائنٹمنٹس میں غیر معمولی اضافہ

Screenshot

Screenshot

بارسلونا/ حکومتِ اسپین کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے متوقع غیر معمولی عمل کے اعلان کے بعد مختلف ممالک کے قونصل خانوں کے باہر طویل قطاریں لگ گئی ہیں اور اپائنٹمنٹس کی طلب میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

30 جنوری 2026 کو بارسلونا میں واقع پاکستانی قونصل خانے کے باہر درجنوں افراد کو ضروری کاغذات کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے دیکھا گیا۔ یہ دستاویزات آئندہ متوقع ریگولرائزیشن کے عمل کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہیں۔ اگرچہ دیگر ممالک کے قونصل خانوں میں ایسے بڑے ہجوم نظر نہیں آئے، تاہم وہاں بھی اپائنٹمنٹس کی مانگ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس عمل میں تارکینِ وطن کی گہری دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

قطار میں کھڑے افراد میں 38 سالہ اسماعیل بھی شامل تھے، جو پاکستانی شہری ہیں اور اپنی اہلیہ اور دو زیرِ تعلیم بچوں کے ساتھ بارسلونا میں مقیم ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ تعلیم کے لیے آئے تھے، مگر یہیں رہ گئے۔ گزشتہ پانچ برس سے زائد عرصے سے وہ ایک سپر مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں۔

جمعرات کی صبح بعض افراد فجر کے وقت ہی قونصل خانے پہنچ گئے تھے۔ 25 سالہ محمد محمود، جو انگریزی بولتے ہیں، کے مطابق کچھ لوگ صبح چار بجے سے قطار میں موجود تھے۔ وہ خود ایک گھنٹے سے انتظار کر رہے تھے۔ محمد نومبر 2024 میں بارسلونا آئے تھے اور اب امید رکھتے ہیں کہ انہیں قانونی دستاویزات مل جائیں گی تاکہ باقاعدہ ملازمت حاصل کر سکیں۔

سب سے زیادہ طلب کیے جانے والے کاغذات میں آبائی ملک سے جاری کردہ کریمنل ریکارڈ سرٹیفکیٹ شامل ہے، جو ذاتی صورتحال اور اسپین میں قیام کے دورانیے کے ثبوت کے لیے لازمی ہے۔ اسماعیل کے مطابق اگر خاندان کے افراد کے لیے دستاویزات درکار ہوں تو اجازت نامے اور شناختی کارڈ کے ذریعے یہ عمل مکمل کیا جا سکتا ہے۔ انہیں یہ دستاویزات اپنے لیے بھی چاہئیں اور اہلیہ کے لیے بھی۔

حکام کے مطابق غیر معمولی ریگولرائزیشن کے لیے درخواستیں اپریل کے آغاز سے 30 جون 2026 تک جمع کرائی جا سکیں گی۔ اس عمل سے وہ افراد مستفید ہوں گے جو 31 دسمبر 2025 تک کم از کم پانچ ماہ سے اسپین میں مقیم ہوں، جن کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہ ہو اور ان کے زیرِ کفالت بچے بھی شامل ہوں گے۔ منظور شدہ رہائشی اجازت ایک سال کے لیے ہو گی۔

دیگر ممالک کے قونصل خانوں میں صورتحال نسبتاً کم دیکھی گئی۔ مثال کے طور پر میڈرڈ میں کولمبیا کے قونصل خانے کے باہر صرف چند افراد موجود تھے۔ لاطینی امریکی ممالک جیسے کولمبیا، وینزویلا اور پیرو کے شہری زیادہ تر آن لائن ہی اپنے کریمنل سرٹیفکیٹس حاصل کر سکتے ہیں، اس لیے قونصل خانوں میں آنے والے افراد عموماً انتظامی غلطیوں کی درستگی یا شناختی دستاویزات کے مسائل کے لیے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں اسپین میں وزارتِ انصاف کے دفتر سے بھی ایک علیحدہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔

56 سالہ پیرووی شہری ایبل انایا، جو ایک سال سے میڈرڈ میں مقیم ہیں، کا کہنا تھا کہ وہ اپنے قیام کو ٹرانسپورٹ کارڈ، اسپتال کی اپائنٹمنٹ یا رجسٹریشن کے ذریعے ثابت کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس عمل کے ذریعے کوئی بھی مستقل ملازمت حاصل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ وہ ہمیشہ تعمیراتی شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔

بارسلونا کے ضلع سانت مارتی میں واقع مراکش کے قونصل خانے میں بھی منگل سے اپائنٹمنٹس اور آنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ میڈرڈ میں مراکش کے قونصل خانے میں دستاویزات کے لیے اپائنٹمنٹس آئندہ ہفتے سے دستیاب ہوں گی۔

دوبارہ پاکستانی قونصل خانے کی طرف لوٹیں تو وہاں موسوس دِ اسکوادرا اور مقامی پولیس کی موجودگی نمایاں رہی۔ اسماعیل کے مطابق پولیس صرف نظم و ضبط قائم رکھ رہی تھی کیونکہ عمارت کے اندر محدود جگہ ہے اور لوگ بڑی تعداد میں آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپین میں پاکستانی قونصل خانے کم ہیں، اس لیے زیادہ تر لوگ یہی آتے ہیں۔ انہوں نے قونصل خانے کی جانب سے شام سات بجے تک اضافی اوقات کار پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

اس غیر معمولی ریگولرائزیشن کے محرک قانون (ILP) کے بانی آگستین ندوُر کا کہنا ہے کہ ہر قونصل خانے کی صورتحال مختلف ہے، اس لیے تمام مسائل کو ایک ہی قانون میں مکمل طور پر سمیٹنا آسان نہیں۔ ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ آبائی ممالک کی انتظامیہ دستاویزات کے اجرا میں کس حد تک سہولت فراہم کرتی ہے، کیونکہ بعض ممالک میں پاسپورٹ یا دیگر کاغذات کے حصول میں خاصا وقت لگتا ہے۔

اسماعیل نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ بہت سے افراد تین چار برس سے اسپین میں رہ رہے ہیں مگر انہیں باقاعدہ کنٹریکٹ نہیں ملا۔ ان کے بقول، “یہ اسپین کی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا، کیونکہ ہم کام کر رہے ہیں مگر سوشل سکیورٹی میں حصہ نہیں ڈال سکتے۔ لوگ استحصال کا شکار ہیں، کم اجرت پر کام کرتے ہیں۔ اب یہ موقع واقعی اچھا ہے۔”

دوسری جانب ندوُر کا کہنا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق ہر ریگولرائز ہونے والا فرد اوسطاً تین ہزار یورو سالانہ ٹیکسوں کی صورت میں ریاست کو ادا کرے گا، جس سے معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔ ان کے مطابق کئی بڑی کمپنیوں نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے کیونکہ انہیں افرادی قوت کی کمی کا سامنا تھا۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں زاپاتیرو، ازنار اور حتیٰ کہ فیلپے گونزالیز کے ادوار میں ہونے والی ریگولرائزیشنز بھی مثبت ثابت ہوئیں۔

تحریک “ریگولرائزاسیون یا” کے ترجمان ندوُر کے مطابق یہ فرمان کافی فراخدلانہ ہے۔ قیام کے ثبوت کے طور پر منی ٹرانسفر جیسے شواہد کو بھی قبول کیا گیا ہے، جس سے بہت سے لوگوں کے لیے عمل آسان ہو گیا ہے۔

سابق پاکستانی قونصل جنرل عمران علی نے بھی اسپین کی امیگریشن پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسپین ایک عظیم ملک ہے جو تارکینِ وطن کے لیے اور اپنی منصفانہ بین الاقوامی پالیسی کے حوالے سے قابلِ تحسین کردار ادا کر رہا ہے۔

اسی امید کے ساتھ، قونصل خانے کے باہر موجود درجنوں افراد اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہیں کہ یہ عمل ان کے لیے ایک باقاعدہ، باوقار اور محفوظ زندگی کا دروازہ کھول دے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے