اسپین میں غیر معمولی ریگولرائزیشن: پہلی بار آن لائن درخواست کی سہولت

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ(دوست نیوز)اسپین میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے شروع کیے جانے والے غیر معمولی عمل میں پہلی بار آن لائن درخواست جمع کرانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ماہرینِ امیگریشن کے مطابق یہ اقدام ماضی کے روایتی اور سست نظام کے مقابلے میں ایک اہم تبدیلی ہے۔

حکومت کی جانب سے غیر ملکی قانون کے ضابطے میں مجوزہ ترمیم کے تحت درخواستیں انتظامیہ کے الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے جمع کرائی جا سکیں گی، اگرچہ حتمی تکنیکی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ حکومتی ترجمان اور وزیر مہاجرت ایلما سائز کے مطابق، درخواستیں سوشل سیکیورٹی دفاتر، سرکاری نمائندہ دفاتر اور آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے دی جا سکیں گی، جبکہ فیصلے کے لیے تین ماہ کی مدت مقرر ہوگی۔

تاہم اس منصوبے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے کیونکہ حکومتی دستاویزات کے مطابق اس عمل کے لیے نہ اضافی بجٹ رکھا گیا ہے اور نہ ہی عملے میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یونینز کا کہنا ہے کہ پہلے ہی دباؤ کا شکار امیگریشن دفاتر مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق، اگرچہ تین ماہ میں تمام درخواستوں کا فیصلہ ممکن دکھائی نہیں دیتا، تاہم درخواست منظور ہوتے ہی تارکینِ وطن کو کام کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

یہ غیر معمولی ریگولرائزیشن ان افراد کے لیے ہوگی جو 31 دسمبر 2025 سے قبل اسپین میں موجود تھے اور کم از کم پانچ ماہ کے قیام کو ثابت کر سکیں۔ شرط یہ بھی ہے کہ درخواست دہندہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو۔ اہل افراد کو ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے رہائشی اجازت نامہ دیا جائے گا، جبکہ نابالغ بچوں کو پانچ سال کے لیے اجازت ملے گی۔

یہ اقدام پی ایس او ای اور پودیموس کے معاہدے کے بعد شروع کیا گیا ہے اور اس کا مقصد ان ہزاروں افراد کو قانونی دائرے میں لانا ہے جو برسوں سے اسپین میں مقیم ہونے کے باوجود قانونی حیثیت حاصل نہیں کر سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے