سانت خوآن: بلدیاتی عمارتوں میں برقع یا نقاب پر پابندی کی تجویز

Screenshot

Screenshot

سانت خوآن دالاکانت( Sant Joan d’Alacant)میں ووکس پارٹی نے بلدیاتی عمارتوں میں برقع یا نقاب پہن کر داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسپین میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی ممکنہ بڑے پیمانے پر قانونی حیثیت دینے پر قومی سطح پر بحث جاری ہے۔

ووکس نے بلدیاتی اجلاس میں پیش کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ بلدیاتی دفاتر میں شناخت کی تصدیق، سکیورٹی اور سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے چہرے کی بصری شناخت ضروری ہے۔ پارٹی کے مطابق چہرہ مکمل یا جزوی طور پر ڈھانپنے والا لباس اس عمل میں رکاوٹ بنتا ہے، چاہے اس کی وجہ مذہبی یا ثقافتی ہی کیوں نہ ہو۔

پارٹی نے واضح کیا کہ تجویز کسی خاص مذہب کو ہدف نہیں بناتی بلکہ ہر اس لباس پر لاگو ہوگی جو چہرے کو چھپائے۔ طبی وجوہات یا صحتِ عامہ کے تحت استعمال ہونے والی ماسک جیسی اشیا اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

ووکس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس حوالے سے بلدیاتی عمارتوں کے لیے ایک واضح ضابطہ تیار کیا جائے۔ اجلاس میں پارٹی کی ترجمان نے درخواست پیش کی، جبکہ میئر سانتیاگو رومان نے کہا کہ اس پر غور کیا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے