آج کی دنیا کو فوجی نہیں بلکہ اخلاقی ری آرممنٹ کی ضرورت ہے، پیدرو سانچیز
Screenshot
میڈرڈ: ہسپانوی وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ آج کی دنیا کو فوجی نہیں بلکہ اخلاقی ری آرممنٹ کی ضرورت ہے، جس کی بنیاد نسوانیت اور منصفانہ کثیرالجہتی نظام پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات جمعے کے روز میڈرڈ میں رائل اکیڈمی آف فائن آرٹس سان فرنیندو میں منعقدہ تقریب “اکیسویں صدی میں اقوامِ متحدہ کی قیادت کرتی خواتین” سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سانچیز کا کہنا تھا کہ دنیا میں جب بھی “ری آرممنٹ” کی بات ہوتی ہے تو اسے صرف اسلحے تک محدود کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اصل ضرورت اخلاقی ری آرممنٹ کی ہے۔ ان کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ عالمی سطح پر نسوانیت اور کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ برابری محض تقاریر کی زینت یا سیاسی طور پر درست نعرہ نہیں بلکہ ایسا اصول ہے جس کی بنیاد پر وسائل مختص کیے جائیں، آوازیں سنی جائیں اور عالمی فورمز پر ترجیحات طے کی جائیں، خاص طور پر وہاں جہاں اسپین اپنی آواز بلند کرتا ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ حقیقی برابری کا تقاضا یہ ہے کہ خواتین اور بچیوں کے ساتھ زمینی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کی حمایت کی جائے، امن مذاکرات کی میز پر خواتین کی موجودگی یقینی بنائی جائے، اور انسانی امداد، ماحولیاتی مالیات اور نئی ٹیکنالوجیز کی حکمرانی میں ان کی آواز کو شامل کیا جائے۔
ان کے بقول، “برابری کا اعلان نہیں کیا جاتا، اسے تعمیر کیا جاتا ہے۔”
سانچیز نے زور دیا کہ اسپین ان قوتوں کے ساتھ کھڑا ہے جو طاقت کو عالمگیر بنانے، زیادہ منصفانہ، نمائندہ اور مؤثر کثیرالجہتی نظام پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر عالمی نظام کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں، انہیں اسپین کا ساتھ نہیں ملے گا، جبکہ جو لوگ مشکلات کے باوجود اصلاحات اور امید کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں، وہ اسپین پر بھروسا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے اسپین کے ماڈل کی کامیابی کو خواتین کی فعال شمولیت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ حکومت میں فیصلہ سازی کے مراکز اور پالیسی ترجیحات کے محور میں خواتین کا ہونا ایک مثبت علامت ہے۔ ان کے مطابق جہاں خواتین شریک ہوتی ہیں وہاں فیصلے زیادہ جامع، سماجی، جائز اور مجموعی طور پر بہتر ہوتے ہیں۔
سانچیز نے اس موقع پر اس بات کی بھی حمایت کی کہ اقوامِ متحدہ کی اگلی سیکرٹری جنرل ایک لاطینی امریکی خاتون ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے اور یہ انصاف کا تقاضا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قیادت پہلی مرتبہ کسی خاتون، اور وہ بھی لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے سے، کو سونپی جائے۔
آخر میں وزیرِاعظم نے سوال اٹھایا کہ اگر آج اقوامِ متحدہ کی ازسرِنو بنیاد رکھی جائے تو کیا اسے اسی طرح ڈیزائن کیا جائے گا جیسا 80 سال پہلے تھا؟ ان کے مطابق شاید چند یوٹیوبرز، چند اولیگارکس اور انتہاپسند دائیں بازو کے ترجمان اس سے اتفاق کریں، مگر اکثریت کا جواب واضح طور پر “نہیں” ہوگا۔