پاکستان میں انسانی حقوق کی کارکن کو ریاست مخالف سوشل میڈیا پوسٹس پر 17 سال قید کی سزا
اسلام آباد (دوست مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی ایک عدالت نے ہفتے کے روز انسانی حقوق کی معروف کارکن اور وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو ریاست مخالف سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ “استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔”
ایمان مزاری، جو پاکستان کی طاقتور فوج کی کھلی ناقد سمجھی جاتی ہیں، اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ، جو خود بھی وکیل ہیں، کو تین الزامات میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔ عدالت نے انہیں بالترتیب پانچ سال، دس سال اور دو سال قید کی سزائیں سنائیں جو بیک وقت چلیں گی۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر اس سے قبل الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہیں قوم پرست کارکنوں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن کا الزام وہ فوج پر عائد کرتے ہیں۔ تاہم فوج ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس مقدمے پر سوالات اٹھائے ہیں اور ملک میں شہری آزادیوں، اظہارِ رائے اور سیاسی اختلاف کی گنجائش کم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ ہے۔
عدالت کے مطابق، یہ الزامات پاکستان کے متنازع سائبر کرائم قوانین کے تحت لگائے گئے اور ان کا تعلق 2021 سے 2025 کے دوران کی گئی سوشل میڈیا پوسٹس سے ہے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے ریاست مخالف شدت پسندوں کے بیانیے کو تقویت دی اور فوج کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی۔
عدالتی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وزیر، شیرین مزاری، جو اس وقت قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کا حصہ رہ چکی ہیں، نے کہا کہ یہ سزا غیر قانونی ہے کیونکہ دفاع کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔