Screenshot
اسپین کی حکمران جماعت پی ایس او ای نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ میڈرڈ کی فیراز اسٹریٹ پر 2023 کی نئے سال کی رات ہونے والے مظاہرے کی تحقیقات کی جائیں، جہاں کچھ افراد نے وزیر اعظم پیدرو سانچیز کے پتلے کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ آیا اس مظاہرے کے منتظمین کا تعلق دائیں بازو کی جماعت ووکس، شدت پسند گروہوں یا پرتشدد تنظیموں سے تھا یا نہیں۔
پی ایس او ای نے جج سے کہا ہے کہ پولیس کی معلوماتی برانچ اس بات کی مکمل رپورٹ تیار کرے کہ اس مظاہرے کے اصل منتظم کون تھے، اس کی فنڈنگ کیسے ہوئی، اس کی تشہیر کس طرح کی گئی اور اس کا مقصد کیا تھا۔ پارٹی کے مطابق یہ جانچ ضروری ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اس کے پیچھے انتہاپسند اور سیاسی گروہ شامل تھے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس مظاہرے کے دوران “پاؤں سے لٹکا دو” جیسے پرتشدد نعرے بھی لگائے گئے، جنہیں ووکس کے رہنما سانتیاگو اباسکال کے ایک بیان سے جوڑا گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب عوام پیدرو سانچیز کو “پاؤں سے لٹکانا” چاہیں گے۔
پی ایس او ای نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ووکس سے اس کے نوجوان ونگ “ریوئیلتا” اور دیگر متعلقہ افراد کے ساتھ ممکنہ تعلقات کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں، اور یہ بھی دیکھا جائے کہ آیا اس کیس میں شامل افراد کا ووکس سے کوئی تنظیمی، مالی یا پیشہ ورانہ تعلق تھا۔
اس کے علاوہ پارٹی نے ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری اور اسے عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جبکہ میڈرڈ کی مقامی انتظامیہ اور حکومت سے اس مظاہرے کی اجازت، رپورٹیں اور دیگر ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست دی گئی ہے۔
پی ایس او ای کے مطابق فیراز میں نئے سال کی یہ تقریب نہ تو پرامن تھی اور نہ ہی تفریحی، بلکہ اس کا مقصد وزیر اعظم کو دھمکانا اور دباؤ ڈالنا تھا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس سے پہلے ہونے والے ہنگاموں کا تسلسل تھا، جن کے دوران پولیس کی بھاری نفری، ہیلی کاپٹر اور دیگر سیکیورٹی اقدامات تعینات کرنے پڑے تھے۔
