Screenshot
اوِیلا میں لگنے والی آگ کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ وادیِ تیئتار (Valle del Tiétar) میں آگ کی شدت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، جس کے باعث حکام نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
میڈرڈ کی خودمختار حکومت میں مرکزی حکومت کے نمائندے فرانسسکو مارتن کے مطابق، آگ کی رفتار اور پھیلاؤ “بہت شدید” رہا ہے۔ حکومت نے وادیِ تیئتار کے نو قصبوں کو خالی کرانے کا حکم دیا ہے، جن میں سے سات اوِیلا اور دو میڈرڈ میں واقع ہیں۔
اس کارروائی سے 30 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ اوِیلا میں مجموعی طور پر تقریباً 38 ہزار لوگوں کو نکالا جا چکا ہے۔
ہنگامی صورتحال کے مشترکہ کنٹرول سینٹر سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مارٹن نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں کو بچانا اور محفوظ انخلا کو یقینی بنانا ہے۔
اب تک کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مکمل تعاون کریں تاکہ آگ بجھانے کا عمل مؤثر طریقے سے جاری رہ سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صورتحال ابھی بھی سنگین ہے اور خاص طور پر ہوا کے رخ پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔
مزید یہ کہ میڈرڈ کے علاقے میں Es-Alert سسٹم کے ذریعے تقریباً 5 ہزار افراد کو روزاس دے پویئرتو ریال (Rozas de Puerto Real) اور کادالسّو دے لوس ویدریوس (Cadalso de los Vidrios) سے انخلا کا پیغام بھیجا گیا ہے۔
