پاکستان میں قتل ہونے والی دو بہنوں کے والد کے لیے 14 سال قید کی سزا کا مطالبہ
اسپین میں استغاثہ (پراسیکیوشن) نے بارسلونا کے شہر Terrassa سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں کو زبردستی شادی پر مجبور کرنے اور بعد میں پاکستان میں قتل کیے جانے کے معاملے میں ان کے والد کے لیے 14 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق ملزم غلام عباس پر تین جرائم کے الزامات ہیں:
انسانی اسمگلنگ برائے جبری شادی، گھریلو تشدد، اور دھمکیاں دینا۔ ان کے دو بیٹے بھی اس مقدمے میں شریک ملزم ہیں۔ بیٹا شہریار بھی 14 سال قید کی ممکنہ سزا کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ اسفندیار کے لیے آٹھ سال قید کی سزا طلب کی گئی ہے کیونکہ استغاثہ کے مطابق وہ مبینہ طور پر جبری شادی کی منصوبہ بندی میں شامل نہیں تھا۔
استغاثہ کے مطابق والد اور دونوں بیٹے بہنوں عروج اور انیسا کی زندگی پر سخت نگرانی رکھتے تھے۔ دونوں بہنوں کو آزادانہ طور پر کہیں آنے جانے یا خاندان سے باہر لوگوں سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر وہ حکم عدولی کرتیں تو انہیں جسمانی سزائیں دی جاتیں اور ان پر متعدد مرتبہ تشدد کیا جاتا تھا۔ جب لڑکیاں گھر میں اکیلی ہوتیں تو انہیں اندر سے تالا لگا کر بند کر دیا جاتا تھا۔
چھوٹی بہن انیسا، جو کم عمری میں خاندانی ملاپ کے ذریعے اسپین آئی تھی، کی زندگی سب سے پہلے ناقابل برداشت ہو گئی۔ 18 سال کی عمر میں اسے مختصر عرصے کے لیے پاکستان کے علاقے گجرات لے جایا گیا جہاں اس کی زبردستی ایک رشتہ دار سے شادی کرائی گئی۔ بعد میں وہ بغیر شوہر کے دوبارہ اسپین واپس آ گئی، مگر اسے مسلسل تنہائی اور سخت پابندیوں والی زندگی گزارنا پڑی۔
دسمبر 2018 میں والدین سے جھگڑے کے بعد انیسا نے کیمیائی مادہ پی کر خودکشی کی کوشش بھی کی اور اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد بھی اسے کئی مرتبہ طبی امداد کی ضرورت پڑی کیونکہ اس پر تشدد جاری تھا۔ پڑوسیوں نے اسے اکثر بالکونی میں روتے ہوئے دیکھا۔ اس نے ایک پڑوسن کو اپنی گردن اور کمر پر تشدد کے نشانات بھی دکھائے، لیکن شکایت درج کرانے سے انکار کیا کیونکہ اسے خاندان کے انتقام کا خوف تھا۔
بعد میں انیسا نے گھر سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ پہلی مرتبہ اس کے بھائی اسے پکڑ کر واپس لے آئے۔ دوسری بار وہ بالکونی کے ذریعے ہمسایہ فلیٹ میں چھلانگ لگا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ کچھ عرصہ بعد اس کی بڑی بہن عروج بھی اس کے ساتھ جا ملی۔ عروج کی بھی اس سے پہلے پاکستان میں اس کی مرضی کے خلاف شادی کر دی گئی تھی۔
مارچ 2022 میں خاندان کے کچھ افراد پاکستان گئے اور وہاں ایک منصوبہ بنایا کہ بہنوں کو راضی کیا جائے کہ وہ اپنے شوہروں کو اسپین بلانے کے لیے خاندانی ملاپ کی درخواست دیں۔ دراصل یہ شادیاں اس مقصد کے لیے کی گئی تھیں کہ وہ مرد قانونی طور پر یورپ آ سکیں۔
بہنوں کو یہ کہہ کر پاکستان بلایا گیا کہ ان کی والدہ شدید بیمار ہیں۔ وہ 19 مئی کو پاکستان پہنچیں اور اپنے آبائی گاؤں نوتھیا گئیں۔ وہاں انہوں نے صاف کہا کہ وہ نہ صرف اپنے شوہروں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں بلکہ ان سے طلاق لے کر بارسلونا میں اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔
اس فیصلے نے خاندانی اور پدرانہ نظام کو چیلنج کیا اور یہی ان کی جان لے گیا۔ انہیں ان کے ہی رشتہ داروں نے قتل کر دیا جن میں بھائی، کزن اور چچا شامل تھے۔ پاکستان میں مقدمہ چلنے کے باوجود تمام ملزمان بری ہو گئے، جس کے بعد اسپین کی عدالتوں نے اس معاملے میں انصاف کی کوشش شروع کی۔