ایران کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی میں شریک نہیں اور نہ ہی اس کی “ساتھی” ہے،جورجیا میلونی

Screenshot

Screenshot

اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ایران کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی میں شریک نہیں اور نہ ہی اس کی “ساتھی” ہے، کیونکہ یہ مداخلت بین الاقوامی قانون کے دائرے سے باہر کی گئی ہے۔

بدھ کے روز اطالوی سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے میلونی نے واضح کیا کہ اٹلی اس کارروائی میں شامل نہیں ہے اور نہ ہی اس میں شریک ہونے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حکومت کو دوسرے ممالک کے فیصلوں کا شریک یا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا، خاص طور پر اس صورت میں جب اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اثرات شہریوں اور کاروباری اداروں کو متاثر کریں۔

میلونی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی کارروائی بین الاقوامی قانون کے دائرے سے باہر ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس صورتحال کو عالمی نظام کے ایک بڑے بحران سے بھی جوڑا۔ ان کے مطابق دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں خطرات بڑھتے جا رہے ہیں اور یکطرفہ فوجی مداخلتیں بھی زیادہ ہو رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ ایران کا آیت اللہ نظام جوہری ہتھیار حاصل کر لے۔ میلونی کے مطابق تہران کے میزائل پروگرام کی صلاحیت اس حد تک بڑھ سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں براہِ راست اٹلی اور یورپ کے دیگر حصوں تک پہنچ سکے۔

اس کے باوجود انہوں نے یورپی ممالک کے ساتھ رابطے جاری رکھنے اور خطے میں استحکام کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق ایران میں جاری جنگ گزشتہ کئی دہائیوں کے سب سے پیچیدہ بحرانوں میں سے ایک بن چکی ہے۔

اطالوی وزیر اعظم نے ایران کے جنوبی شہر میناب کی ایک اسکول پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت بھی کی۔ ان کے مطابق جنگ کے پہلے دن امریکی بمباری کے نتیجے میں تقریباً 180 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر طالبات تھیں۔ میلونی نے اسے “جنوبی ایران میں بچیوں کا قتل عام” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس واقعے پر ذمہ داروں سے حساب لیا جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے دوران عام شہریوں اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

دوسری جانب انہوں نے بتایا کہ جنگ کے باعث خطے میں پھنسے ہزاروں اطالوی شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق اب تک 25 ہزار سے زیادہ اطالوی شہریوں کو واپس ملک لایا جا چکا ہے۔

میلونی نے خلیجی ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انخلاء کے عمل میں اہم مدد فراہم کی، جبکہ اطالوی وزارت خارجہ، انٹیلی جنس اداروں اور سول پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس مشکل صورتحال میں اہم کردار ادا کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے