Screenshot
ہسپانوی نیشنل پولیس نے فیونلابرادا میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر کارکنوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور غیر قانونی امیگریشن میں مدد دینے کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق اس شخص نے اپنے ایک ملازم کو خرگوشوں اور مرغیوں کے ساتھ ایک باڑے میں رکھا ہوا تھا جہاں ہر طرف جانوروں کی گندگی پھیلی ہوئی تھی اور ملازم کے پاس کوئی باقاعدہ ملازمت کا معاہدہ بھی نہیں تھا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک فارم ہاؤس میں چوری کی شکایت درج ہوئی، جہاں سے 18,000 یورو (15,000 نوٹوں میں اور 3,000 سکوں میں) غائب ہو گئے تھے۔ مالک نے یہ رقم پلاسٹک کے تھیلوں میں الماری میں چھپا رکھی تھی۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے پایا کہ چوری کا منظر جعلی طور پر بنایا گیا تھا تاکہ زبردستی داخلے کا تاثر دیا جا سکے۔ دروازے پر نشانات مصنوعی طور پر بنائے گئے تھے اور صرف وہی کمرہ الٹ پلٹ تھا جہاں رقم رکھی گئی تھی۔
مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ فارم کا ملازم، جو نگرانی اور جانوروں کی دیکھ بھال کا ذمہ دار تھا، اس واردات میں ملوث ہے۔ پولیس کے مطابق اس نے رقم چوری کرنے کے بعد سائیکل پر دونوں طرف تھیلے لٹکا کر فرار ہونے کی کوشش کی۔
چوری کے بعد مشتبہ شخص نے اپنی مالی حیثیت سے ہٹ کر طرزِ زندگی اختیار کر لیا، جیسے کہ ٹیٹو بنوانا، مہنگے کپڑے خریدنا اور بڑی رقوم بیرونِ ملک بھیجنا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے ثبوت مٹانے کے لیے پلاسٹک کے تھیلوں کو بھوسے اور کچرے کے ساتھ جلا دیا اور باقیات کو ایک گملے کے پیچھے چھپا دیا۔
گرفتاری کے دوران ملازم نے بتایا کہ وہ انتہائی خراب حالات میں رہ رہا تھا۔ وہ ایک باڑے میں سوتا تھا جہاں اس کا گدا جانوروں کی گندگی سے گھرا ہوا تھا۔ نہانے کے لیے باہر کھلے میں شاور لگا ہوا تھا، جہاں وہ ہر موسم میں نہانے پر مجبور تھا۔
پولیس نے یہ بھی تصدیق کی کہ وہ بغیر کسی معاہدے کے روزانہ تقریباً 15 گھنٹے کام کرتا تھا، جس میں فارم کی نگرانی اور جانوروں کی دیکھ بھال شامل تھی۔
تحقیقات کے نتیجے میں پولیس نے ملازم کو چوری کے الزام میں جبکہ فارم کے مالک کو کارکنوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور غیر قانونی امیگریشن میں مدد دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ دونوں کو بعد ازاں عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔
