Screenshot
اسپین کے شہر سیوتا کے صدر خوان خسوس ویواس نے شہر پر بڑھتے ہوئے مہاجرتی دباؤ کو “قومی ایمرجنسی” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تقریباً 1,500 افراد شہر میں داخل ہوئے، جو سیوتا کی کل آبادی کا تقریباً 2 فیصد بنتا ہے۔
ویواس نے کہا کہ سیوتا پر مہاجرتی دباؤ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ یہ اسپین اور یورپ کی افریقہ میں واحد زمینی اور سمندری سرحدوں میں سے ایک ہے، تاہم حالیہ دنوں میں اس میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کو قومی ایمرجنسی کے طور پر دیکھا جائے اور فوری، مضبوط، منظم اور مربوط اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ایک مرکزی قیادت (سنگل کمانڈ) کے تحت کارروائی ضروری ہے۔
سیوتا کے صدر نے امید ظاہر کی کہ ہسپانوی حکومت ان کی اپیل کو سنجیدگی سے لے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ان کا مسلسل رابطہ ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پناہ گزین مراکز شدید دباؤ کا شکار ہیں، خاص طور پر بالغ افراد کے مراکز جو ریاست کے دائرہ اختیار میں ہیں، اور نابالغ بچوں کے مراکز جنہیں بھی مالی اور انتظامی مدد کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق صورتحال ایک “انسانی اور سماجی ایمرجنسی” بن چکی ہے۔
ویواس نے مراکش کے ساتھ تعاون بڑھانے کی بھی اپیل کی تاکہ بڑے پیمانے پر داخلے کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سرحدی سیکیورٹی فورسز کی تعداد اور وسائل بڑھانے اور قوانین میں تبدیلی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایک ماہ کے اندر صورتحال مئی 2021 جیسے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جب بڑی تعداد میں مہاجرین سیوتا میں داخل ہوئے تھے۔
