سوئٹزرلینڈ کا بڑا فیصلہ: ایران جنگ میں شمولیت پر امریکا اور اسرائیل کو اسلحہ برآمدات معطل
Screenshot
سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کو اسلحہ کی برآمدات عارضی طور پر معطل کر رہی ہے، کیونکہ یہ دونوں ممالک ایران کے ساتھ جاری جنگ میں شامل ہیں۔
سوئس وفاقی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک ایران کے ساتھ بین الاقوامی مسلح تنازع جاری ہے، اس دوران ایسے ممالک کو اسلحہ کی برآمد کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو اس جنگ کا حصہ ہوں۔ حکومت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کی بنیاد سوئٹزرلینڈ کے روایتی “غیر جانبداری” کے اصول پر ہے۔
حکومت کے مطابق، موجودہ برآمدی لائسنسوں اور دیگر اشیاء کی ترسیل کا باقاعدہ جائزہ ایک بین الوزارتی ماہر کمیٹی لے گی، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ غیر جانبداری کے اصول سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ جو لائسنس جنگ سے متعلق نہیں ہوں گے، انہیں استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
سوئس حکام نے یہ بھی بتایا کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکا کے لیے اسلحہ برآمد کرنے کے کوئی نئے لائسنس جاری نہیں کیے گئے۔ اسی طرح اسرائیل کے لیے بھی کئی سالوں سے مستقل اسلحہ برآمدی اجازت نامے جاری نہیں کیے گئے، اور یہی صورتحال ایران کے لیے بھی برقرار ہے۔
مزید برآں، “دوہری استعمال” (dual-use) والے ہتھیار، جنہیں دفاعی یا جارحانہ دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، ان پر بھی سخت نظر رکھی جائے گی اور ان کی منظوری ماہرین کی کمیٹی کے جائزے سے مشروط ہوگی۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں سوئس حکومت نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا، تاہم اس نے ایران کے جوابی اقدامات پر بھی تنقید کی تھی۔