Screenshot
بدھ سے ہزاروں مراکشی نوجوان سمندری اور زمینی راستوں سے خودمختار شہر سیوتا میں داخل ہو چکے ہیں۔
کم از کم پندرہ مہاجرین مراکش سے تیر کر سیوتا پہنچنے کی کوشش میں اپنی جان گنوا بیٹھے۔ خبر رساں ادارے ای ایف ای کے مطابق گواردیا سول پولیس نے جمعرات کے روز چودہ افراد کی لاشیں برآمد کیں، جن میں سے چھ لاشیں آخری چند گھنٹوں کے دوران ملی ہیں، جبکہ میری ٹائم ریسکیو نے ایک اور لاش نکالی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
پہلی لاش صبح سویرے ملی۔ سیوتا میں قائم کشتی “سالوامار آتریا” نے لاش کو سمندر سے نکال کر بندرگاہ منتقل کیا۔
بعد ازاں گواردیا سول کے میرین سروس کے اہلکاروں نے تاراخال بارڈر کے قریب مزید گیارہ افراد کی لاشیں برآمد کیں، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مراکش سے تیر کر داخل ہونے کی کوشش کے دوران ڈوب گئے۔ اسی دن کے آخری اوقات میں مزید تین لاشیں بھی سمندر میں جنوبی تاراخال کے قریب تیرتی ہوئی ملی ہیں۔
تمام لاشوں کو ماہی گیری کی بندرگاہ میں واقع گواردیا سول کی تنصیبات میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا تاکہ موت کی اصل وجوہات معلوم ہو سکیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ افراد دم گھٹنے یا ڈوبنے کے باعث ہلاک ہوئے۔
ان اموات کے بعد رواں سال کے آغاز سے اب تک سیوتا کے ساحلی علاقوں میں کم از کم 45 مہاجرین جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں سے 26 صرف جولائی کے مہینے میں ہلاک ہوئے۔
