سپریم کورٹ آج فیصلہ کرے گی کہ آیا مہاجرین کی غیر معمولی ریگولرائزیشن کو عارضی طور پر روکا جائے یا نہیں

Screenshot

Screenshot

سپین کی سپریم کورٹ آج جمعہ کے روز اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا حکومت کی جانب سے شروع کی گئی مہاجرین کی غیر معمولی ریگولرائزیشن (قانونی حیثیت دینے) کی اسکیم کو عارضی طور پر معطل کیا جائے یا نہیں۔ اس اسکیم کا مقصد تقریباً پانچ لاکھ افراد کو رہائش اور کام کی اجازت دینا ہے۔

صبح 11 بجے سے پانچ مختلف درخواست گزاروں کی سماعتیں ہوں گی، جن میں میڈرڈ کی علاقائی حکومت (ازابیل دیاث آیوسو کی قیادت میں)، ووکس پارٹی، ہازت اوئیر، ایسوسی ایشن فار ریکنسیلی ایشن اینڈ ہسٹوریکل ٹروتھ اور ایسوسی ایشن لیبرٹاد و خستیسیا شامل ہیں۔

یہ ریگولرائزیشن 16 اپریل کو نافذ ہوئی تھی، اور ابتدائی دو ہفتوں میں تقریباً دو لاکھ درخواستیں جمع کرائی جا چکی ہیں۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 30 جون ہے۔

سپریم کورٹ اس سے قبل 16 اپریل کو فوری طور پر اسکیم روکنے کی درخواست مسترد کر چکی ہے، کیونکہ عدالت کو اس میں ہنگامی بنیادوں پر مداخلت کی ضرورت نظر نہیں آئی تھی۔

میڈرڈ کی علاقائی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام عوامی خدمات پر شدید دباؤ ڈالے گا، جبکہ وسائل اور فنڈنگ اس کے مطابق فراہم نہیں کی گئی۔ ووکس کے مطابق اس سے عوامی نظام، رہائش تک رسائی اور سیکیورٹی کے مسائل بڑھیں گے۔

دوسری جانب، ہازت اوئیر کا کہنا ہے کہ یہ عمل قانون کا غلط استعمال ہے اور اگر اسے جاری رکھا گیا تو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔

حکومت کی نمائندگی کرنے والی اسٹیٹ اٹارنی نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے عوامی خدمات پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا، کیونکہ جن افراد کو قانونی حیثیت دی جا رہی ہے وہ پہلے ہی ان خدمات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

حکومت کے مطابق، اس ریگولرائزیشن سے نہ صرف مہاجرین کو قانونی حقوق حاصل ہوں گے بلکہ وہ باقاعدہ ملازمت حاصل کر سکیں گے، جس سے انضمام بہتر ہوگا اور سوشل سیکیورٹی میں بھی اضافہ ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے