Screenshot
اسپین کے شہر سیوتا میں حالیہ مہاجرین کے بحران نے یورپ میں اسپین کے کردار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کی یورپی یونین کے ساتھ سیکیورٹی، ہجرت، چین اور دفاع جیسے معاملات پر پالیسی اختلافات نے انہیں بتدریج یورپی مرکزی دھارے سے دور کر دیا ہے۔
اگرچہ یورپ میں اس بحران پر ابتدائی غصہ کچھ کم ہوتا دکھائی دیتا ہے، لیکن برسلز میں ایک بڑا سوال پھر سے اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا سانچیز واقعی یورپ کے “سرخ اوربان” بنتے جا رہے ہیں؟ یہ اصطلاح ڈنمارک کے رکنِ یورپی پارلیمنٹ ہینرک ڈاہل نے استعمال کی، جس سے مراد ایک ایسا بائیں بازو کا رہنما ہے جو یورپی پالیسیوں سے ہٹ کر چل رہا ہو۔
ڈاہل کے مطابق، “سانچیز دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں اور انہیں ایک ایسا لیڈر سمجھا جا رہا ہے جو سیکیورٹی جیسے اہم معاملات میں سنجیدہ نہیں۔” تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان کے برعکس، سانچیز نے یورپی قوانین کو منظم انداز میں بلاک نہیں کیا۔
تنقید کرنے والوں کے مطابق اسپین کی چین کے حوالے سے نرم پالیسی، نیٹو کے دفاعی اخراجات کے نئے اہداف کو قبول نہ کرنا، اور مہاجرین کے حوالے سے “انسانی بنیادوں” پر مبنی پالیسی اسے دیگر یورپی ممالک سے مختلف بناتی ہے۔ خاص طور پر چین کے ساتھ تعلقات پر اسپین کا مؤقف یورپی یونین میں اختلاف کا باعث بنا ہے۔
دفاعی اخراجات کے حوالے سے بھی اسپین تنقید کی زد میں ہے کیونکہ وہ نیٹو کے پانچ فیصد ہدف کو قبول کرنے والا واحد ملک نہیں، بلکہ اس سال تقریباً دو فیصد جی ڈی پی دفاع پر خرچ کر رہا ہے۔
تاہم سب سے بڑا تنازع مہاجرت کے معاملے پر سامنے آیا۔ سیوتا بحران کے دوران تقریباً 72 ہزار افراد مراکش سے اسپین کے اس علاقے میں داخل ہوئے، جس نے یورپی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اسپین کی حالیہ مہاجرین کو قانونی حیثیت دینے کی پالیسی کو بھی اس صورتحال کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے 27 میں سے 22 یورپی رہنماؤں نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کو ایک مشترکہ خط لکھ کر اپنی “گہری تشویش” کا اظہار کیا۔ خط میں کہا گیا کہ غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے سخت اقدامات اور پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ ضروری ہے۔
ماہرِ معاشیات ایلیسیا گارشیا ہیریرو کے مطابق، “یہ حقیقت ہے کہ سانچیز خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں، اور یہ صورتحال کافی عرصے سے جاری ہے۔” ان کے مطابق 22 رہنماؤں کی جانب سے ایک ساتھ خط لکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلے سے ہی خدشات موجود تھے۔
دوسری جانب، کچھ یورپی رہنما اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ اسپین تنہا ہو رہا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے نائب صدر جاوی لوپیز نے “سرخ اوربان” کی اصطلاح کو “بے معنی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسپین یورپ میں سیاسی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کے مطابق، “ہم یورپ میں ایک ضروری توازن فراہم کرتے ہیں، اور ہمارے بغیر یورپی اداروں میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ سانچیز یورپی اتحاد اور بین الاقوامی قوانین کے حامی ہیں اور بائیں بازو کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔
آخر میں، خود سانچیز نے بھی اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا: “ہم اکیلے نہیں ہیں، ہم سب سے آگے ہیں۔”
