Screenshot
بادالونا کے میئر زاویئر گارسیا البیول نے حالیہ مہاجرتی بحران کے بعد سیوتا سے آنے والے غیر ہمراہ کم عمر غیر ملکی بچوں کو اپنے شہر میں رکھنے کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ میونسپلٹی کسی بھی صورت میں ان افراد کو، چاہے وہ نابالغ ہوں یا بالغ، قبول نہیں کرنا چاہتی۔
البیول نے اس صورتحال کا براہِ راست ذمہ دار ہسپانوی حکومت، خصوصاً وزیر اعظم پیدرو سانچیز کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی بلدیاتی اداروں کے پاس ایسے افراد کی دیکھ بھال کے لیے ضروری وسائل موجود نہیں ہیں اور اس کے سنگین اثرات شہر پر پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا“میں نہیں چاہتا کہ یہ لوگ میرے شہر کی گلیوں میں گھومتے پھریں۔” ان کے مطابق، ایسے کم عمر افراد کو رکھنے کے لیے مخصوص انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے، جو نہ تو بلدیہ فراہم کر سکتی ہے اور نہ ہی مرکزی حکومت اس کی مالی ذمہ داری اٹھا رہی ہے۔
مزید برآں، البیول نے سیوتا میں پیش آنے والے واقعات کو “حملے کی کوشش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض غیر قانونی ہجرت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین صورتحال ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بحران کی ذمہ داری قبول کرے اور فوری اقدامات کرے۔
میئر کا کہنا تھا کہ اگر ان بچوں کو مختلف علاقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تو انہیں صرف ان علاقوں میں رکھا جائے جہاں ان پالیسیوں کی حمایت کرنے والی جماعتیں برسرِ اقتدار ہیں۔
دوسری جانب، جماعت “جونتس” نے بھی کاتالونیا میں ان مہاجرین کی منتقلی کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی کی ترجمان میریئم نوگیرس نے کہا کہ اگر کاتالونیا کو اس تقسیم میں شامل کیا گیا تو ان کی جماعت حکومت کی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت بغیر وسائل فراہم کیے ایسے فیصلے مسلط کرتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت پر نسل پرستی کے الزامات لگ سکتے ہیں، تاہم وہ اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے اور کاتالونیا کے مفادات کا دفاع جاری رکھیں گے۔
سیوتا سے آنے والے افراد کے مستقبل اور انہیں ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کرنے کے معاملے پر سیاسی اور عوامی بحث تاحال جاری ہے۔
