ٹرمپ کے طنزیہ بیان پر سانچیز کی میلونِی سے یکجہتی کا اظہار
Screenshot
ہسپانوی وزیرِاعظم پیدروسانچز نے جمعہ کے روز برسلز سے اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی کے ساتھ مکمل “یکجہتی” کا اظہار کیا، یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مذاق کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے میلونِی کے ساتھ تصویر “ترس کھا کر” بنوائی۔
یورپی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں سانچیز نے کہا“میں نے اس حملے پر اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جو نہ سیاسی ہے نہ ذاتی۔ میں نہیں جانتا اسے کیا نام دوں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہ صرف عوامی سطح پر بلکہ نجی طور پر بھی میلونِی سے اظہارِ یکجہتی کر چکے ہیں، کیونکہ دونوں رہنما یورپی یونین کی سربراہی ملاقات میں موجود تھے جب ٹرمپ کے متنازعہ بیانات سامنے آئے۔
یہ سفارتی تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران لی گئی ایک تصویر پر ٹرمپ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ تصویر اس لیے بنوائی کیونکہ میلونِی انہیں “قابلِ ترس” لگ رہی تھیں۔ اطالوی وزیرِاعظم نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ اٹلی “کبھی منت نہیں کرتا”۔
ٹرمپ نے ایک اطالوی پروگرام میں کہا “اس نے مجھ سے تصویر کی درخواست کی، مجھے اس پر ترس آ گیا۔”
میلونِی نے ان بیانات کو “مکمل طور پر من گھڑت” قرار دیتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا اور کہا “مجھے سمجھ نہیں آتا کہ امریکی صدر اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کرتے ہیں۔ یہ مایوس کن ہے کہ وہ مغرب کے دشمنوں کے مقابلے میں ایسا رویہ نہیں اپناتے۔ لیکن ایک بات یاد رکھیں: اٹلی اور میں کبھی منت نہیں کرتے۔”
اس معاملے کا پہلا سفارتی اثر یہ ہوا کہ اطالوی وزیرِ خارجہ نے 21 اور 22 جون کو امریکہ کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا، اور کہا کہ ٹرمپ کے “سنگین اور توہین آمیز” بیانات پورے اٹلی کی توہین ہیں۔