Screenshot
میڈرڈ/ سویڈن کے وزیرِاعظم اُلف کرسٹرسن نے اسپین کی جانب سے تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن کے اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’’بہت برا خیال‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات یورپ کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور 2015 جیسا مہاجرین کا بحران دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے۔
کرسٹرسن نے کہا کہ اسپین کی موجودہ امیگریشن پالیسیوں سے سویڈن بھی خاص طور پر متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ یورپ آنے والے بہت سے تارکینِ وطن شمالی یورپی ممالک کا رخ کرتے ہیں، جیسا کہ 2015 کے مہاجرین کے بحران کے دوران ہوا تھا۔
انہوں نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمیں ’’بہت، بہت محتاط رہنا ہوگا تاکہ ہم ایسے اقدامات نہ کریں جو 2015 میں پیش آنے والے واقعات کے قریب بھی لے جائیں۔‘‘
سویڈن کے وزیرِاعظم نے بتایا کہ وہ اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز سے اس معاملے پر اپنی ناراضی کا اظہار پہلے ہی کر چکے ہیں۔ اسپین کی مجوزہ ریگولرائزیشن سے تقریباً 12 لاکھ افراد کی انتظامی حیثیت کو قانونی شکل دینے کا راستہ کھل سکتا ہے۔
کرسٹرسن کی تنقید سے ایک روز قبل اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی اور ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی مشترکہ بیان میں اسپین کی امیگریشن پالیسی پر تشویش ظاہر کی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے ’’بے قابو امیگریشن‘‘ کو جرائم میں اضافے اور عوامی خدمات پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے جوڑا تھا۔
حالیہ ہفتوں میں اسپین کے بعض یورپی اتحادی ممالک نے اسپین کی امیگریشن پالیسیوں پر خاصی تنقید کی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ سیوتا (Ceuta) میں پیدا ہونے والا مہاجرین کا بحران بھی ہے، جہاں دسیوں ہزار افراد نے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ تاہم ان میں سے بڑی اکثریت کو بعد میں مراکش واپس بھیج دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسپین کی حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی ریگولرائزیشن کے تحت اہل افراد کو اسپین میں رہائش اور کام کرنے کا قانونی اجازت نامہ ملے گا، لیکن یہ اجازت نامہ خود بخود یورپی یونین کے دوسرے ممالک میں رہنے یا کام کرنے کا حق نہیں دیتا۔
اس کے باوجود سویڈش وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ ’’اب مطمئن ہو کر بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔‘‘ ان کے مطابق یورپی ممالک کو اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنی چاہیے اور امیگریشن کے حوالے سے ممکن حد تک مشترکہ اور ہم آہنگ پالیسیاں اپنانی چاہئیں۔
کرسٹرسن نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات کرنا جو یورپ کی موجودہ مستحکم صورتحال کو خطرے میں ڈال سکتے ہوں، ’’بہت برا خیال‘‘ ہوگا۔
سیاسی پس منظر: اُلف کرسٹرسن ستمبر میں دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنے والے ہیں اور اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جا رہا کہ حکومت بنانے یا برقرار رکھنے کے لیے انہیں دائیں بازو کی جماعت سویڈن ڈیموکریٹس کی حمایت درکار ہو سکتی ہے۔
