Screenshot
غرناطہ میں زلزلے کے چھوٹے جھٹکے نسبتاً عام ہیں، تاہم جمعہ کی شام سے آنے والے مسلسل جھٹکوں نے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا اور بہت سے لوگ اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔
جمعہ کی شام غرناطہ کے چرچ Nuestra Señora de las Angustias میں ایک شادی کی تقریب جاری تھی کہ شام 6 بجے کے بعد زمین میں پہلا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ تقریباً معمولی نوعیت کے اس واقعے پر پادری نے بھی ہلکے پھلکے انداز میں تبصرہ کیا، تاہم تقریب معمول کے مطابق جاری رہی۔
لیکن اس کے بعد کئی گھنٹوں تک زمین ہلتی رہی۔ بہت سے شہری، خاص طور پر بلند عمارتوں میں رہنے والے افراد، مزید جھٹکوں کے خوف سے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تاکہ کسی ممکنہ نقصان کی صورت میں عمارتوں میں پھنسنے سے بچ سکیں۔
غرناطہ کے پورے صوبے میں رات خوف اور بے چینی میں گزری۔ آرمیا (Armilla) سمیت بعض علاقوں میں ایسے افراد کے لیے عارضی جگہیں بھی فراہم کی گئیں جو زلزلے کے خوف سے اپنے گھروں میں واپس نہیں جانا چاہتے تھے۔
زلزلے کے جھٹکوں کے ساتھ شدید طوفانی بارشوں نے بھی صورتحال کو مزید پریشان کن بنا دیا۔ Huétor Vega کے رہائشی فرانسسکو نے ہنستے ہوئے کہا ’’سورج گرہن کے بعد تو یہ سب کچھ دنیا کے خاتمے جیسا لگنے لگا ہے۔‘‘
اسی علاقے میں سان روک (San Roque) کی تقریبات کے دوران ہزاروں افراد میلے کے میدان میں موجود تھے جب ہفتے کی علی الصبح ایک بجے کے بعد سب سے زیادہ شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا۔ چند منٹ کے لیے بجلی بھی بند ہوگئی اور لوگوں نے گھبرا کر میلے کا مقام خالی کرنا شروع کر دیا۔
اس کے بعد بھی زلزلے کے آفٹر شاکس (بعد کے جھٹکے) محسوس ہوتے رہے۔ ہفتے کی صبح تقریباً 9 بجے ایک اور جھٹکا محسوس کیا گیا، جس سے شہریوں میں خوف مزید بڑھ گیا۔
