نیویارک: اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کثیر ملکی نظام، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے اداروں کے دفاع پر زور دیا۔ انہوں نے ان حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو، ان کے بقول، عالمی قوانین اور بین الاقوامی اداروں کو کمزور کر رہی ہیں۔
سانچیز نے جارحانہ جنگوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسپین نے روس کے خلاف پابندیوں کی حمایت، دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے سے انکار اور اسرائیلی حکومت کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر اسرائیلی حکومت اور وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کی شدید تنقید کرتے ہوئے ’’نسل کشی‘‘ کا الزام بھی دہرایا۔
انہوں نے سئوتا میں جاری ہجرت کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تارکینِ وطن کو دشمن سمجھنا اور انسانی حقوق سے دستبردار ہونا اسپین کا راستہ نہیں ہوگا۔ سانچیز کے مطابق بحران سے نمٹتے ہوئے قانون کی پاسداری اور انسانی حقوق کا احترام برقرار رکھا جانا چاہیے۔
خطاب کے اختتام پر سانچیز نے آنے والی نسلوں کے سامنے موجودہ حکومتوں کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی نسلیں پوچھیں گی کہ جب بعض ممالک نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی شروع کی تو اُس وقت دنیا نے کیا کیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اسپین آنے والی نسلوں سے یہ کہہ سکے کہ ’’ہم نے جدوجہد کرنا بند نہیں کیا۔‘‘
