بارسا فٹ بال کلب کےسابق کپتان اور معروف سابق فٹبالر کارلس پیجول نے اپنے پیشہ ورانہ فٹبال کیریئر، ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی، صحت، ذہنی صحت اور اپنی موجودہ روزمرہ زندگی کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ 48 سالہ پیجول نے یہ باتیں اسپین میں غذائی سپلیمنٹس برانڈ کے سفیر بننے کے بعد ایک انٹرویو میں کہیں۔
پیجول کے مطابق اپنے فٹبال کیریئر کے ابتدائی برسوں میں انہیں احساس ہوا کہ اچھی کارکردگی صرف میدان میں سخت ٹریننگ اور کھیلنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ انہوں نے خوراک، آرام، سپلیمنٹس اور جسمانی احتیاط کو بھی اپنی تیاری کا اہم حصہ بنایا، جسے وہ ’’غیر مرئی ٹریننگ‘‘ قرار دیتے ہیں۔
سابق فٹبالر نے اعتراف کیا کہ اگر انہیں ماضی میں واپس جانے کا موقع ملتا تو وہ بعض معاملات میں خود پر اتنا زیادہ دباؤ نہ ڈالتے۔ ان کے مطابق توازن ہی وہ چیز ہے جو طویل عرصے تک کامیابی اور صحت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
پیجول نے بتایا کہ وہ فٹبال کو اپنی زندگی کا مرکز سمجھتے تھے اور اپنی سخت روٹین کو کبھی قربانی نہیں سمجھا۔ تاہم، چوٹ لگنے کے بعد وہ ہمیشہ جلد از جلد میدان میں واپس آنے کی کوشش کرتے تھے، جس کا انہیں بعد میں نقصان اٹھانا پڑا۔
2014 میں فٹبال سے ریٹائرمنٹ کے بعد ابتدائی مہینے ان کے لیے آسان نہیں تھے۔ ان کے بقول، ’’مجھے صرف یہ قبول نہیں کرنا تھا کہ میں وہ کام نہیں کر سکتا جو مجھے سب سے زیادہ پسند تھا، بلکہ 36 سال کی عمر میں میں ورزش بھی نہیں کر سکتا تھا۔‘‘ تقریباً چھ ماہ بعد انہوں نے پیڈل ٹینس شروع کی، جس سے انہیں دوبارہ جسمانی سرگرمی اور مسابقتی جذبہ برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
آج پیجول اپنی ورزش اور متوازن خوراک کو کھیلوں کی کارکردگی کے بجائے صحت کے لیے جاری رکھتے ہیں۔ وہ آرام، ورزش، مناسب غذا اور ذہنی دباؤ کو کنٹرول کرنے کو طویل اور صحت مند زندگی کے اہم عوامل قرار دیتے ہیں۔
ذہنی صحت کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے اب یہ موضوع پہلے کی طرح ممنوع نہیں رہا۔ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو سوشل میڈیا سے کچھ فاصلہ رکھنے اور ضرورت پڑنے پر ماہرین سے مدد لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔
